Thursday, October 15, 2026
 

جرمنی میں ایران کیلیے اسرائیل کے حامیوں پر حملے؛ 2 افراد کو قید کی سزائیں

 



جرمنی کی عدالت نے ایرانی انٹیلی جنس کے احکامات پر ملک میں اسرائیل کے حامی شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں دو افراد کو طویل قید کی سزائیں سنادی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق دونوں افراد کو جاسوسی اور اقدامِ قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور دونوں افراد پر جرمنی میں اسرائیل کے حامی افراد کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام بھی ثابت ہوا۔ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دونوں کو جرم کے اعتبار سے قید کی سزائیں سنائیں۔ سزا پانے والے ڈنمارک کے شہری علی ایس کو ساڑھے آٹھ سال جبکہ اس کے افغان ساتھی کو ساڑھے چار سال قید کی سزا دی گئی۔ جرمن استغاثہ نے بتایا کہ ڈنمارک کے شہری علی ایس کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے قائم خصوصی شاخ، القدس فورس، کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ نے بھی دو ایرانی شہریوں پر شمالی انگلینڈ میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ یورپی ممالک میں ایسے مقدمات نے قومی سلامتی، جاسوسی اور مذہبی و سیاسی برادریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان واقعات میں ایرانی حکومت یا اس کی حمایت یافتہ تحریک کا تعلق کس حد تک ہے۔ ایران نے ان مقدمات اور سزاؤں پر کبھی کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ نہ ہی عدالت میں ایرانی وابستگی ثابت ہوئی۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملے اور پھر مارچ 2026 میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد دنیا بھر میں اسرائیلی شہریوں اور یہودی عبادت گاہوں پر حملے میں اضافہ ہوا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل