Loading
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی کے تحت ڈاکٹریٹ آف فزیوتھراپی کے پہلے بیچ کی کلاسز جنوری سے شروع ہوجائیں گی جبکہ نرسنگ پروگرام شروع کرنے کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹی سے الحاق شدہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کی موجودہ حیثیت فی الحال متنازعہ ہے اور یونیورسٹی کے اپنے پاس قانون کی فیکلٹی نہ ہونے کے سبب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اس پر اعتراض کیا ہے۔
جمعرات کی صبح لیاری یونیورسٹی میں ایک پریس بریفنگ میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یونیورسٹی سے الحاق شدہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کو الحاق دینے کے لیے لیاری یونیورسٹی کے اپنے پاس قانون کی فیکلٹی کی موجودگی ضروری ہے جو شروع سے ہی نہیں ہے اور یونیورسٹی کے پاس فیکلٹی کی عدم موجودگی کے باوجود لاء کالج کے پاس یونیورسٹی کا الحاق" ایفیلیشن " ہے۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ کالج انتظامیہ نے ماضی میں ادارے کو خود ہی یونیورسٹی کا جز "کونسٹیٹیونٹ کالج" قرار دے دیا تھا کونسٹیٹیونٹ کالج ہونے کے باوجود اس کا انتظام یونیورسٹی کے بجائے سندھ حکومت کے پاس رہا اسے بعد میں الحاق شدہ کالج قرار دیا گیا ، لیاری یونیورسٹی میں لاء فیکلٹی نہ ہونے پر چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اس پر اعتراض کیا تھا ہمیں اب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار ہے اگر چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کہے گی تو اس کا الحاق جاری رکھیں گے ۔
لیکن اس کے لیے یونیورسٹی کو اپنا اسکول آف لاء بنانا ہوگا، تاہم اگر چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اعتراض کیا تو الحاق منسوخ کردیں گے انھوں نے یہ بھی بتایا کہ لاء کالج نے 50 نشستوں پر 200 داخلہ دیے جو غیر قانونی تھے ، ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبہ کو لاء کالج نے داخلے دیے اور انھیں ڈگری بھی جاری کردی۔
ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ لیاری یونیورسٹی میں نرسنگ کا شعبہ شروع کرنے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں جلد ایچ ای سی میں این او سی کے لئے درخواست دیں گے جبکہ فزیوتھراپی میں 30 داخلے دیے ہیں مزید داخلوں کا سلسلہ جاری ہے، جنوری سے پہلے بیچ کی کلاسز شروع ہوجائیں گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل