Thursday, October 15, 2026
 

مردانہ یا زنانہ؟ خواجہ سراؤں کو کون سے وارڈ میں رکھا جائے؟ برطانیہ کا بڑا فیصلہ

 



برطانیہ کے محکمہ صحت نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سرا مریضوں کو اسپتالوں میں ان کی صنفی شناخت کے بجائے حیاتیاتی جنس کے مطابق مردوں یا خواتین کے وارڈز میں رکھا جائے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق انگلینڈ کی قومی صحت سروس نے جمعرات کو جاری کردہ رہنما اصولوں میں واضح کیا ہے کہ مریضوں کی عزت، تحفظ اور طبی ضروریات کو یقینی بنانا لازمی ہوگا۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مریض کو حیاتیاتی جنس کے مطابق وارڈ میں رکھنا طبی طور پر مناسب نہ ہو تو اس کے لیے متبادل انتظام کیا جائے۔ نئی ہدایات کے تحت اسپتالوں کے عملے کے لیے مخصوص بیت الخلا، کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے اور دیگر سہولیات بھی حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر استعمال کی جائیں گی۔ تاہم اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے متبادل انتظامات بھی فراہم کریں جہاں کوئی فرد تنہا سہولت استعمال کرسکے یا تمام صنفی شناختوں کے افراد کے لیے مشترکہ جگہ دستیاب ہو۔ اس سے قبل جاری رہنما اصولوں کے تحت خواجہ سرا مریض اپنی صنفی شناخت کے مطابق وارڈز اور سہولیات استعمال کرسکتے تھے۔ اپریل 2025 میں برطانوی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابقہ ہدایات واپس لے لی گئی تھیں۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ مساوات کے قانون میں جنس سے مراد حیاتیاتی جنس ہے جب کہ نئی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ فیصلے ہر معاملے کی صورت حال اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی طبی امداد اور فوری علاج کے شعبوں میں طبی ضرورت کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ اسپتالوں کو اپنی موجودہ سہولیات کا جائزہ لینے اور متبادل انتظامات کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ حیاتیاتی جنس کی بنیاد پر حقوق کی حمایت کرنے والی تنظیم سیکس میٹرز نے نئی ہدایات کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ دوسری جانب خواجہ سرا افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ٹرانزیکچول اور ٹرانس پلس سولیڈیریٹی الائنس نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی کا شکار اسپتالوں میں ان ہدایات پر عمل درآمد مشکلات پیدا کرسکتا ہے اور عملے کے لیے مریضوں کی محفوظ دیکھ بھال سے متعلق ابہام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق انگلینڈ میں مخلوط جنس کے مریضوں کو مخصوص مردانہ یا زنانہ وارڈز میں رکھنے سے متعلق سابقہ ضوابط کی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2026 میں ایسے 5 ہزار 520 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ جون 2025 میں یہ تعداد 3 ہزار 853 تھی۔ جنوری 2026 میں ڈارلنگٹن میموریل اسپتال کے معاملے میں ملازماؤں کی شکایت پر ٹریبونل نے قرار دیا تھا کہ انتظامیہ نے بالواسطہ امتیازی سلوک کیا۔ اسکاٹ لینڈ میں بھی ایک نرس اور اسپتال انتظامیہ کے درمیان خواتین کے لیے مخصوص کپڑے تبدیل کرنے کی جگہ کے استعمال پر تنازع سامنے آیا تھا۔ نئی ہدایات کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ اسپتال مریضوں کی طبی ضروریات، رازداری اور تحفظ کے ساتھ ساتھ قانونی تقاضوں پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ حیاتیاتی جنس سے مراد وہ جنس ہے جس کی بنیاد پر بچے کو پیدائش کے وقت لڑکا یا لڑکی قرار دیا جاتا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل