Loading
پشاور پولیس نے سکندر پورہ میں اسلحے کی نوک پر گھروں میں اہل خانہ کو یرغمال بنا کرڈکیتی کی واردات کرنے والے بین الصوبائی گروہ کا سراغ لگا کر لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان برآمد کرلیا، گروہ کے دو اہم ارکان پہلے ہی ایک پولیس کی کارروائی میں مارے جا چکے ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق 19 اگست 2026 کو تھانہ شہید گلفت حسین کی حدود سکندر پورہ میں مسلح ملزمان ایک گھر میں داخل ہوئے اور اسلحے کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر طلائی زیورات، نقدی، قیمتی گھڑیاں اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے تھے، واقعے کا مقدمہ متاثرہ شہری میاں فاروق بشیر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
اعلیٰ پولیس حکام نے ڈکیتی کی سنگین واردات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور لوٹے گئے سامان کی برآمدگی کے لیے ایس پی سٹی ڈویژن شاہد عدنان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔
ڈی ایس پی ہشتنگری سرکل وارث خان کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ شہید گلفت حسین سلیم خلیل اور تفتیشی افسران پر مشتمل ٹیم نے سیف سٹی پروجیکٹ کی مدد سے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج، اہم شواہد اور جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے واردات میں ملوث بین الصوبائی ڈکیت گروہ کا سراغ لگایا۔
پولیس نے بتایا کہ تفتیش اور کارروائی کے دوران لوٹے گئے 24 تولے طلائی زیورات، 12 لاکھ روپے نقدی، 6 قیمتی گھڑیاں، کیمرہ اور دیگر قیمتی سامان برآمد کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے دو ارکان عدنان اور ابوذر اس سے قبل تھانہ بھانہ ماڑی کی حدود میں ایک واردات کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گروہ کے باقی ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل