Loading
سپریم کورٹ نے قتل کیس میں عینی شاہدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی عینی شاہد کیلیے ناممکن ہے اچانک ہونے والے مہلک حملے کے دوران وہ فضا میں تیزی سے سفرکرتی ہوئی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اوریقین کے ساتھ بتا سکے کہ ہرفائر مقتول کے جسم کے کس مقام پر لگا۔
انسانی ذہن سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی وہ کسی تیز رفتارکیمرے کی طرح کام کرے گا،ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا ہو،اس سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ حکام کو واقعے کی اطلاع دینے سے پہلے جائے وقوعہ پر اپنی والدہ کے جسم کا باقاعدہ معائنہ کرے ۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلے میں کہاکہ فوجداری قانون کے تحت انسانی رویے کوکسی ایک مقررہ فارمولے میں محدودنہیں کیا جا سکتا،نہ توقع کی جا سکتی ہے ہرگواہ واقعات پر ایک جیسا ردِعمل ظاہر کرے گا،عمر قیدکی سزابرقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کی جاتی ہے۔
ملزم اظہر اور شریک ملزم کو خاتون کوقتل کرنے کے الزام میں نامزدکیاگیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی جبکہ شریک ملزم کو بری کردیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل