Loading
ایک ایسا حکمرانی کا نظام جو لوگوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کی فراہمی میں ناکامی سے دوچار ہو، ایسے میں قومی سیاست میں سچائی کی ضرورت ہے۔ ہماری ترجیحات وہ نہیں ہیں جو ایک کامیاب حکمرانی کے نظام کو درکار ہیں۔الزام تراشیوں کی بنیاد پر نہ تو نظام مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کی عملی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔اصولی طور پر ہمارا حکمرانی کا نظام طاقت کی بنیاد پر کھڑا ہے جہاں اقتدار کی کشمکش میں عام آدمی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایک طرف لوگوں کے زندہ رہنے کے بنیادی معاشی حقوق ہیں تو دوسری طرف ان کے سیاسی اور سماجی سمیت، اظہار آزادی یا انسانی حقوق سے جڑے مسائل ہیں۔اس ہفتے ہم نے پاکستان کے تناظر میں تین اہم خبریں سنی ہیں۔اول ہم بطور پاکستانی اس وقت خطہ میںغربت میں سب سے آگے ہیں۔دوئم بھوک اور غذائی قلت میں بھی پاکستان بھارت،بنگلہ دیش اور سری لنکا سے بھی آگے ہے۔سوئم پاکستان مقروض ممالک کے گروپ کا سربراہ مقرر۔ان تینوں خبروں کا تعلق ہمارے مستقبل کی ترقی سے جڑے سوالات پر مبنی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور مجموعی طور پر کدھر جارہے ہیں۔
ان تین خبروں کے ساتھ یہ خبریں بھی ہمیں اجتماعی طور پر جنجھوڑتی ہیں کہ 2050تک ہماری آبادی آج سے دو گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔لیکن ہماری پالیسی سازوں کے پاس بڑھتی ہوئی آبادی سے نمٹنے کی کوئی پالیسی اور حکمت عملی دیکھنے کو نہیں مل رہی اور اسی طرح ماحولیات سمیت کلائمیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی کوئی بڑا کام دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ایک اور سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پچھلے تین برسوںمیں 18لاکھ71ہزار سے زائد پاکستانی جو اعلی تعلیم یافتہ افراد ہیں معاشی بدحالی یا روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ملک چھوڑ گئے۔
ہم نے ترقیاتی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی اور اسی وجہ سے ہمارے جو سرکاری سماجی ،ترقی اور معیشت کے اعداد وشمار ہیں ان میں نہ صرف نمایاں فرق یا تضاد نظر آتا ہے بلکہ ہم ان معاملات میں عالمی رینکنگ میں بھی بہت پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔وفاقی اور صوبائی سطح پر مالیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نظام کا نہ ہونا اور ترقی کے جامع روڈ میپ کے فقدان سمیت مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی یا ان خود مختاری کا نہ ہونا بھی مقامی سطح کے گورننس کی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے۔
ایک مسئلہ نظام کے عدم اتفاق کا ہے۔ہم ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ ہم نے اس ریاست کو کس نظام کے تحت چلانا ہے۔جمہوریت یا پھر ہائبرڈ یا کنٹرولڈ جمہوری نظام یا پارلیمانی اور صدارتی نظام کی بنیاد پر چلنا ہے، یہ بحث جب تک اس نظام میں طے نہیں ہوگی ہم الجھاؤ اور ٹکراو کی سیاست سے دو چار رہیں گے،ایسے میں کوئی بھی نظام تسلسل سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ بہت سے لوگ نظام کی ناکامی کے بیان اور اس کی تبدیلی پر زور تو دیتے ہیں لیکن اس کا عملی خاکہ کیا ہوگا اورپچھلے نظام کی ناکامی کا تجزیہ اور نئے ایجنڈے کو کیسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے اس پر بحث ہمیں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔اسی طرح نظام کی تبدیلی پر جو تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے بھی بات آگے بڑھنے کی بجائے متنازعہ ہوتی جارہی ہے۔
ہمیں اس وقت بڑے چیلنجز درکار ہیں۔ان میں قانون اور آئین کی حکمرانی کا بحران،جمہوریت پر مبنی کمزور نظام،گورننس کے نظام کی ناکامی،دہشت گردی جیسے امور شامل ہیں۔اب ان مسائل کا مقابلہ وفاق اور صوبوں نے کرنا ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے مقابلے میں صوبے زیادہ ذمے دار اور جوابدہ ہیں۔ ہم چاروں صوبوں میں تعلیم اور صحت کے شعبہ جات اور وہاں ملنے والی کوالٹی یا سہولیات کا پوسٹ مارٹم کرلیں یا ہم اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ میں موجود اعداد وشمار کو دیکھ لیں تو ان شعبہ جات کی بدحالی یا گورننس کی ناکامی کی جھلک دیکھنے کو ملے گی۔اخبارات،ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا پر اربوں روپے کی تشہیر پر مبنی ترقی کا حکمرانی کا ماڈل پاکستان میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
اگر ہمارا سیاسی نظام طبقاتی بنیادوں پر ایک مخصوص طاقت ور طبقات کی ترجمانی کرے گا اور عام یا کمزور افراد کو پیچھے کی طرف دھکیلے گا تو یہ نظام منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر آگے نہیں بڑھ سکے گا بلکہ اور تفریق پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔اس وقت حکمرانی کے نظام میں عوامی مفادات کی بنیاد پر بہت زیادہ نہ صرف خلیج ہے بلکہ اب یہ خلیج اور زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ایک طرف معاشی خلیج اور دوسری طرف سیاسی تقسیم کے عمل نے معاشرے کو مشکل جگہ پر کھڑا کردیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا داخلی فرسودہ نظام خود بھی بہتر مستقبل کے حوالے سے رکاوٹ بنا ہوا ہے۔پاکستان کا مستقبل اصلاحات سے جڑا ہوا ہے جو ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔لیکن معلوم نہیں کیونکر ہمارے سیاستدان اصلاحات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ممکن ہے ہمارے حکمران طبقات اصلاحات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوں۔ویسے جب تک پاکستان کی ریاست کا ماڈل جمہوری اور فلاحی ریاست میں خود کو تبدیل نہیں کرے گا ہم اسی طرح خود کو الجھائے رکھیں گے۔
لوگ اپنی ترقی چاہتے ہیں مگر ان کو اپنی ترقی کا ماڈل نظر نہیں آرہا ۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اس وقت معاشرے میں جو انتہا پسندی یا رجعت پسندی ہے اس کے جہاں علاقائی عوامل ہیں وہیں داخلی سیاسی،معاشی، انصاف اور گورننس سے جڑے مسائل بھی ہیں۔لیکن کیونکہ ہمارا حکمرانی کا نظام ان لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتا لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔اس لیے اگر ہم نے ملک کے نظام کو آئین اور قانون کے تابع نہیں کرنا اور عدالتی نظام کو اسی طرح مفلوج رکھنا ہے تو پھر اس نظام کی ساکھ کوکیسے بچایا جاسکے گا۔اس وقت ملک کے نظام پر جو سوالات اٹھ رہے ہیںاس کا جواب حکمران طبقات کو دینا ہوگا۔
ہمیں اگر واقعی آگے بڑھنا ہے تو خدارا فرسودہ طور طریقوں سے باہر نکل کر جدیدیت کے ماڈل کواختیار کرنا ہوگا۔دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور لوگوں کے زندگی کے معاملات اور طرز زندگی بھی بدل رہی ہے۔آج جو دنیا کی ترقی کے اشاریے ہیںاور جن پر دنیا خود کو آگے بڑھارہی ہے ہمیں خود کو ان معاملات کے ساتھ جوڑ کر پیش رفت کرنا ہوگی۔مستقبل ان ہی ریاستوں یا قوموں کا ہوتا ہے جو مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں اور نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ ان کے سامنے اس مستقبل کا ایک مکمل خاکہ بھی ہوتا ہے۔اس لیے پاکستان مستقبل کے تناظر میں آگے بڑھے مگر پرانے خیالات سے نہیں بلکہ نئی سوچ اور فکر کے ساتھ راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل