Monday, October 19, 2026
 

ژاں پال سارتر کی آزادی یا سرمایہ داری کی قید

 



ایک نوجوان نے اپنے والد سے کہا کہ وہ زندگی میں اپنی مرضی کا کام کرنا چاہتا ہے۔ والد نے جواب دیا’’ ضرور کرو، تم آزاد ہو۔‘‘ نوجوان نے پوچھا’’ پھر کیا میں وہ کام بھی کرسکتا ہوں جس سے زیادہ پیسہ نہ ملے؟ ‘‘والد کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے۔’’ بیٹا، آزادی اپنی جگہ، مگر گھر بھی تو چلانا ہے!‘‘ یہ معمولی سا مکالمہ بظاہر دو نسلوں کے درمیان گفتگو ہے، لیکن اس میں جدید انسان کی پوری المیہ کہانی چھپی ہوئی ہے۔ انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ آزاد ہے، اسے اپنے خواب منتخب کرنے کا حق حاصل ہے، وہ اپنی زندگی کا معمار خود ہے، لیکن جب وہ اپنے خواب منتخب کرنے بیٹھتا ہے تو اسے پہلے روزگار، آمدنی، سماجی مرتبے، خاندانی توقعات اور معاشی بقا کی شرائط پوری کرنا پڑتی ہیں، وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتا ہے، مگر اسے یہ بھی سکھایا جا چکا ہوتا ہے کہ کامیاب زندگی کسے کہتے ہیں۔ فرانس کے فلسفی ژاں پال سارتر نے اسی آزادی کو جدید فلسفے کا بنیادی مسئلہ بنایا تھا۔ ان کا مشہور مقدمہ تھا کہ انسان پہلے وجود میں آتا ہے، پھر اپنے انتخاب اور اعمال کے ذریعے اپنی ماہیت متعین کرتا ہے۔ انسان کے لیے کوئی پہلے سے طے شدہ انسانی جوہر اس کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا، وہ اپنے انتخاب کی ذمے داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتا۔ سارتر کی فکر کی کشش واضح ہے۔ انسان اپنی تقدیر کا محض تماشائی نہیں، اسے اپنے عمل کی ذمے داری اٹھانی چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتخاب کی صلاحیت ہی حقیقی آزادی ہے؟ اگر کسی انسان کے سامنے انتخاب کے تمام راستے ایک ایسے نظام نے متعین کیے ہوں ،جو اس کی خواہشات، کامیابی کے تصورات اور زندگی کے مقاصد تشکیل دیتا ہے، تو کیا وہ واقعی اپنی زندگی کا مالک ہے؟ سارتر کا فلسفہ دوسری جنگ عظیم کے ملبے پر ابھرا۔ یورپ نے ترقی، سائنس اور عقلیت کے دعوے کرنے والی تہذیب کو اپنی ہی ایجاد کردہ تباہی میں ڈوبتے دیکھا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر انسان اپنے اعمال کا ذمے دار ہے تو پھر وہ تہذیب کس کی ذمے داری ہے جو انسان کو قتل کرنے کی صنعتی صلاحیت تو دے، مگر قتل کو روکنے کے لیے کوئی مشترک اخلاقی معیار فراہم نہ کرسکے؟ سارتر نے انسان کو حالات کا بے بس اسیر ماننے سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک انسان اپنے حالات سے متاثر ضرور ہوتا ہے، لیکن ان حالات کے اندر اس کا ردِعمل، اس کا انتخاب اور اس کی ذمے داری بھی اہم ہیں۔ اس تصور کی اخلاقی قوت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آزادی کو انسان کی بنیادی حقیقت تو مان لیا جائے، لیکن یہ سوال غیر واضح رہے کہ آزادی کو کس مقصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور کون سا مقصد انسانی زندگی کو حقیقی معنویت دیتا ہے۔  ہم جانتے ہیں کہ سرمایہ داری محض منڈی، منافع، بینک اور دولت کی تقسیم کا نام نہیں، یہ انسانی خواہش، زندگی کے مقصد اور اجتماعی اقتدار کو ایک مخصوص سمت میں منظم کرنے والا تہذیبی نظام بھی ہے۔ اس نظام میں انسان کی کامیابی کا پیمانہ بتدریج اس کی قوتِ خرید، اس کے اثاثے، اس کی پیداواری صلاحیت اور اس کی سماجی حیثیت بن جاتا ہے۔ اوریہاں سارتر کا تصورِ آزادی ایک نئے امتحان سے گزرتا ہے۔ فرض کیجیے ایک شخص اپنی آزاد مرضی سے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا چاہتا ہے۔ وہ کسی کے جبر کے بغیر یہ فیصلہ کرتا ہے، محنت کرتا ہے اور دولت جمع کرتا ہے۔ سارتر کے تصور میں وہ اپنے انتخاب کی ذمے داری اٹھاتا ہے، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی خواہش کی تشکیل کیسے ہوئی؟ دولت اس کے لیے کامیابی کا بنیادی معیار کیوں بنی؟ کیا اس نے اپنے مقصد کو آزادانہ طور پر منتخب کیا یا اس نے اس تہذیب کے مقرر کردہ مقصد کو اپنا ذاتی خواب بنا لیا جس میں وہ پیدا ہوا؟ اوریہ فرق معمولی نہیں۔ کسی نظام کی پابندیوں کے اندر انتخاب کرنا اور خود ان پابندیوں کو پیدا کرنے والے نظام پر سوال اٹھانا، آزادی کی دو مختلف سطحیں ہیں۔غزہ میں انسانی جانوں اور معصوم بچوں کی نسل کُشی اور اس کے گرد عالمی سیاست کے تضادات نے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ کیا انسانی آزادی اور انسانی وقار واقعی آفاقی اصول ہیں یا ان کا اطلاق طاقت کے عالمی توازن کے مطابق بدل جاتا ہے؟ کسی فلسفی کی اخلاقی عظمت صرف اس کے اصولوں کی خوب صورتی سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ وہ ان اصولوں کو مشکل سیاسی حالات میں کس حد تک برقرار رکھتا ہے۔ سارتر کی اپنی سیاسی زندگی بھی اس امتحان سے محفوظ نہیں رہی۔ ظلم کے خلاف مجرد اخلاقی موقف اختیار کرنا اور ظلم پیدا کرنے والے سیاسی و تہذیبی نظاموں کا یکساں تنقیدی جائزہ لینا ایک ہی چیز نہیں، اگر آزادی کا اصول اپنے اطلاق میں طاقت کے تعلقات سے مغلوب ہوجائے تو وہ اپنے آفاقی دعوے کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔  دوسری طرف، آج کی عالمی معیشت خود آزادی اور اختیار کے بارے میں نئے سوال پیدا کررہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اکتوبر2026ء میں عالمی معیشت کی شرحِ نمو 3.1فی صد رہنے کی پیش گوئی کی، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے فایدہ اٹھانے والے ممالک اور توانائی درآمد کرنے والے یا کم آمدنی والے ممالک کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔ اب نوجوان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ذمے دار خود ہے، اپنی صلاحیتیں بہتر بنائے، مسابقت میں آگے بڑھے اور کامیاب ہو۔ بلاشبہ ذاتی کوشش اہم ہے، مگر اگر معیاری تعلیم، روزگار، سرمایہ اور فیصلہ سازی کے مواقع غیر مساوی طور پر تقسیم ہوں تو ہر ناکامی کو فرد کی ذاتی نااہلی قرار دینا بھی ایک فکری ناانصافی ہے۔ سارتر کا مطالعہ ہمیں اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی ہر بات قبول یا رد کردی جائے، بلکہ اس لیے کہ ان کا سوال آج بھی زندہ ہے۔ انسان اپنی زندگی کا مصنف کیسے بنتا ہے؟ ہم اس سوال میں ایک اور سوال کا اضافہ کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی کا مقصد کون متعین کرتا ہے، اور اس مقصد کے تعین کی قوت کس کے پاس ہے؟ کیونکہ انسان کی سب سے گہری غلامی یہ نہیں کہ اس سے انتخاب کا حق چھین لیا جائے،بلکہ یہ ہے کہ اس کے لیے انتخاب کے تمام راستے بھی کوئی اور بنائے، کامیابی کا مفہوم بھی کوئی اور طے کرے، اور پھر اسے یہ یقین بھی دلا دے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل