Loading
کینیا میں قیامت کی پیش گوئی کرنے والے مذہبی مبلغ پال میکنزی اور اس کے 28 ساتھیوں کو 190 بچوں سمیت 191 افراد کے قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے۔
یہ افراد ایک ایسے مذہبی گروہ سے وابستہ تھے جس کے پیروکاروں کو مبینہ طور پر بھوکا رہنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میں جا سکیں۔
استغاثہ کے مطابق پال میکنزی اپنے گروہ کے پیروکاروں کو تعلیم حاصل کرنے اور اسپتالوں سے علاج کروانے سے بھی روکتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور روزہ رکھ کر بھوکے رہنے سے وہ حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات اور جنت حاصل کر سکیں گے۔
عدالت کے مطابق بچوں کو پہلے خوراک سے محروم کیا گیا، جبکہ فرار ہونے یا کھانا کھانے کی کوشش کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ معاملہ 2023 میں اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ساحلی علاقے کے قریب شاکاہولا جنگل میں اجتماعی قبروں کی کھدائی شروع کی۔ حکام کے مطابق وہاں سے 400 سے زائد لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔
اس واقعے نے کینیا میں مذہبی گروہوں کی نگرانی اور حکام کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے پر بھی سوالات اٹھائے۔
پال میکنزی نے اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے کسی کو بھوکا رہنے پر مجبور نہیں کیا، تاہم عدالت نے دفاعی مؤقف مسترد کردیا۔ اب میکنزی اور اس کے ساتھیوں کو 6 نومبر 2026 کو سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔
اس کے خلاف دیگر اموات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے مقدمات بھی زیرِ کارروائی ہیں۔
واضح رہے سابق ٹیکسی ڈرائیور پال میکنزی نے 2003 میں گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ کی بنیاد رکھی، جس میں تیزی سے قیامت کے موضوع پر خطبات کی تبلیغ کی گئی اور اپنے پیروکاروں کو خود کو اور اپنے بچوں کو بھوک سے مرنے پر زور دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل