Loading
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی خوبصورتی اور قدرتی حسن کی پہچان سمجھی جانے والی ہنہ جھیل پانی کی شدید قلت کے باعث اپنی رونقیں کھونے لگی۔
کبھی پانی کی لہروں، کشتی رانی، واٹر اسپورٹس اور مہمان پرندوں کی آمد سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہنے والی جھیل آج خشک زمین اور پھٹی ہوئی مٹی کا منظر پیش کر رہی ہے، جس پر دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں نے افسوس اور مایوسی کا اظہار کیا ہے، جبکہ جھیل سے وابستہ کاروباری افراد، کشتی رانوں اور واٹر اسپورٹس کے شعبے سے منسلک لوگوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔
کوئٹہ سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہنہ جھیل بلوچستان کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ قدرتی مناظر سے گھرے اس مقام پر ماضی میں سیاحوں کا رش، پانی میں تیرتی کشتیاں اور پرندوں کی چہچہاہٹ ایک دلکش منظر پیش کرتی تھی، تاہم پانی کی مسلسل کمی نے جھیل کے حسن کو متاثر کر دیا ہے۔
جھیل کے مختلف حصوں میں خشک زمین اور مٹی میں پڑنے والی گہری دراڑیں پانی کی قلت کی سنگینی کو ظاہر کر رہی ہیں۔ ہنہ جھیل کا موجودہ منظر دیکھنے کے لیے دوسرے شہروں سے آنے والے سیاح بھی مایوسی کا شکار ہیں۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ وہ بڑی خواہش اور شوق کے ساتھ ہنہ جھیل دیکھنے آئے تھے، لیکن یہاں پہنچ کر پانی کی کمی اور جھیل کی ابتر حالت دیکھ کر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ ان کے مطابق ہنہ جھیل کا شمار بلوچستان کے خوبصورت مقامات میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی موجودہ حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔
تقریباً 1818 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہنہ جھیل کی گہرائی 43 فٹ بتائی جاتی ہے، جبکہ اس میں تقریباً 32 کروڑ 20 لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ طویل عرصے سے بارشوں کی کمی اور پانی کی مسلسل گرتی ہوئی سطح نے جھیل کی قدرتی خوبصورتی اور تفریحی اہمیت کو متاثر کیا ہے۔
جھیل کی خشک سالی کے اثرات صرف سیاحت تک محدود نہیں رہے بلکہ اس سے وابستہ مقامی کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ کشتی رانی اور واٹر اسپورٹس سے روزگار کمانے والے افراد صورتحال پر پریشان ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث آبی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ان کے کاروبار اور آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے جھیل کی موجودہ صورتحال مستقبل کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
دوسری جانب پانی کی کمی سے جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام، مہمان پرندوں کی آمد و قیام اور قریبی علاقوں کے باغات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق قدرتی آبی ذخائر میں پانی کی مسلسل کمی ماحول اور اس سے وابستہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ہنہ جھیل کی موجودہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچستان کے قدرتی اور سیاحتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
جھیل میں پانی کی کمی کے اسباب کا جائزہ لینے، پانی کے دستیاب وسائل کے بہتر انتظام اور بحالی کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نہ صرف اس قدرتی مقام کی خوبصورتی بحال ہو بلکہ سیاحت، مقامی روزگار اور ماحول کو بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ہنہ جھیل محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ کوئٹہ کی شناخت اور بلوچستان کے قدرتی حسن کا اہم حصہ ہے۔ اس کی بحالی کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات سیاحت اور مقامی معیشت کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول پر بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل