Loading
اسپرین کو عموماً بخار کم کرنے اور سر، دانتوں یا پٹھوں کے درمیانے درجے کے درد میں آرام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعض گھریلو ٹوٹکوں میں بھی اس گولی کو مختلف مقاصد کے لیے آزمایا جاتا ہے۔
بالوں کی دیکھ بھال، باتھ روم میں صابن کے نشانات صاف کرنے اور کپڑوں سے پسینے کے داغ دور کرنے جیسے طریقے بھی ان میں شامل ہیں۔ البتہ ان ٹوٹکوں کی افادیت کے سائنسی شواہد محدود ہیں اور اسپرین ہر مقصد کے لیے محفوظ نہیں ہوتی۔
بالوں کے خشک اور کھردرے پن کے لیے ایک تجویز کردہ ٹوٹکے میں اسپرین کی ایک گولی کو ایک کپ گرم پانی میں حل کرکے بالوں پر لگانے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ محلول کو تقریباً 15 منٹ بعد دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح خشکی کے لیے شیمپو میں اسپرین کی دو پسی ہوئی گولیاں ملانے کا طریقہ بھی بیان کیا جاتا ہے، تاہم حساس جلد یا سر کی کسی بیماری کی صورت میں ایسا کرنے سے پہلے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
باتھ روم کی دیواروں اور دیگر سطحوں پر صابن کے باعث بننے والے سفید نشانات صاف کرنے کے لیے ایک ٹوٹکے میں صفائی کے ڈیٹرجنٹ میں اسپرین کی پانچ گولیاں شامل کرنے اور اس آمیزے کو متاثرہ جگہ پر اسپرے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسے تقریباً آدھے گھنٹے بعد گرم پانی سے دھونے کا کہا جاتا ہے۔ تاہم اسپرین کو صفائی کی مصنوعات میں ملانے کی افادیت ثابت شدہ نہیں، اس لیے مصنوعات کے لیبل پر دی گئی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
جلد کی جلن یا سوزش کے لیے بھی اسپرین کے استعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں تھوڑے سے لیموں کے رس میں دو سے تین اسپرین گولیاں ملا کر متاثرہ حصے پر لگانے کی تجویز ہے۔ لیکن یہ طریقہ جلد میں جلن، الرجی اور نقصان کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً لیموں کا رس جلد پر لگا کر دھوپ میں جانے سے ردعمل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے اس آمیزے کو جلد پر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
کپڑوں پر پسینے کے ضدی داغ دور کرنے کے لیے ایک اور گھریلو نسخے میں گرم پانی کے ساتھ اسپرین ملا کر داغ والی جگہ پر لگانے اور تقریباً ایک دن تک چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کپڑے کو اس کے لیبل پر درج ہدایات کے مطابق دھونے کی تجویز ہے۔ تاہم اس طریقے سے داغ لازماً ختم ہونے کی ضمانت نہیں، اس لیے پہلے کپڑے کے کسی غیر نمایاں حصے پر آزمائش کرنا مناسب ہے۔
یاد رہے کہ اسپرین ایک دوا ہے، عام صفائی یا جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات کا متبادل نہیں۔ اسے کھانے، جلد پر لگانے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے ممکنہ مضر اثرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل