Thursday, October 22, 2026
 

یہ بھی ویسی ہی تبدیلی ثابت نہ ہو

 



ساڑھے چار سال قبل قوم نے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی تبدیلی دیکھی تھی جس کے چار سال سوا چھ ماہ بعد پی ٹی آئی کے پی کی حکومت ختم کر کے وہاں گورنر راج لگا دیا گیا ہے اور کے پی میں ایمرجنسی بھی لگائی ہے۔ گورنر راج کو آئین کے تحت دو ماہ سے چھ ماہ تک برقرار رکھا جا سکتا ہے اور کے پی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ موجود ہیں مگر فعال نہیں بے اختیار کر دیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اور کے پی حکومت کے اختیار پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر کو مل گئے ہیں مگر یہ اپریل 2022 جیسی تبدیلی نہیں وفاقی حکومت کا انتہائی مجبوری میں اٹھایا گیا اقدام ہے۔ اپنے حکومتی اقدام کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آئینی جب کہ پی ٹی آئی اور اس اقدام کی مخالف جے یو آئی، جماعت اسلامی اور اے این پی غیر آئینی قرار دے رہی ہیں۔ اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کے خلاف آئینی طور پر تحریک اعتماد منظور ہوئی تھی جسے پی ٹی آئی تسلیم نہیں کرتی جو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی نے پیش کرائی تھی جس کی حمایت پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں ایم کیو ایم، (ق) لیگ، باپ پارٹی نے بھی کی تھی اور اب کے پی میں گورنر راج کے نفاذ کی یہ پارٹیاں حمایت کر رہی ہیں جب کہ سابق حکومتی اتحادی جے یو آئی اب اس کی مخالف ہے اور موجودہ حکومت کی مخالف اپوزیشن پارٹی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی حمایت اس وقت موجودہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور اے این پی نے بھی کی تھی جو کے پی میں گورنر راج کی اب مخالفت کر رہے ہیں۔ اپریل 2022 میں مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی بعض رہنما تحریک اعتماد پیش کرنے کے خلاف تھے اور ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی غیر مقبول اپنے ہی وزیر اعظم کے اقدامات کی وجہ سے ہوئی تھی۔اپریل 2022 میں پی پی اور پی ڈی ایم نے (ن) لیگ کے میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کیا تھا اور تمام اتحادی پارٹیاں وفاقی کابینہ میں شامل تھیں اور مولانا فضل الرحمن نے اپنے سمدھی غلام علی کو کے پی میں گورنر مقرر کرایا تھا جو پی ڈی ایم حکومت کی بقیہ 16 ماہ کی مدت کے بعد اور چھ ماہ کی نگراں حکومت میں بھی تقریباً دو سال گورنر کے پی رہے تھے۔ اپریل 2022 کی تبدیلی پر اتحادی حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کے وزرا سے لگتا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت ملک کو تباہ کر گئی اور پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت وہ تمام شکایات ختم کرائے گی اور ملکی معیشت میں بہتری لائے گی جس کا ذمے دار پی ٹی آئی حکومت کو قرار دیا گیا تھا جس کے وزیر اعظم کے غلط فیصلوں سے ناراض ہو کر آئی ایم ایف نے مزید قرض دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستان کی ہر نئی حکومت آنے کے بعد تمام برے حالات کا ذمے دار سابق حکومتوں کو ٹھہرانے کے اصول پر قائم چلی آ رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف 2022 کے بعد فروری 2024 میں بھی وزیر اعظم منتخب ہوئے جنھیں منتخب کرانے میں جے یو آئی کے سوا تمام حکومتی اتحادی شامل تھے۔ فرق یہ تھا کہ جے یو آئی کو موجودہ حکومت میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی نے نئی کابینہ میں شمولیت خود نہیں کی تھی اور صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ دو صوبوں کے گورنروں کے آئینی عہدے لیے تھے اور اب کے پی میں گورنر راج تمام اتحادیوں کی مشاورت سے لگایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں ملکی معیشت کی تباہی کا رونا جو 2022 میں شروع ہوا تھا وہ ساڑھے چار سال بعد اب بھی جاری ہے اور موجودہ حکومت میں دو وزرائے خزانہ مسلم لیگ (ن) کے تھے مگر موجودہ تیسرے وزیر خزانہ غیر سیاسی ہیں ، ڈھائی سال میں معیشت بہتر نہ ہو سکی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے ساڑھے چار سال بعد موجودہ حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری کا نیا ریکارڈ قائم کرکے ملک میں غربت اتنی بڑھا دی ہے کہ پاکستان دنیا کے غریب ترین 8 پس ماندہ ملکوں میں شامل ہو چکا ہے اور ملک قرضے پر قرضے لے کر حکومت نے نئی نسل کو مقروض کرا دیا اور آنے والا ہر بچہ بھی مقروض پیدا ہو رہا ہے۔ پونے انیس لاکھ بے روزگار تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے اور بے روزگاری و مہنگائی میں موجودہ حکومت 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کا ریکارڈ توڑ چکی ہے اور ساڑھے چار سالوں میں حکومت نے 2022 میں کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا اور صرف ایک ریلیف دو ماہ قبل مستحق ضرورت مندوں کو پٹرول میں سو روپے لیٹر رعایت کا ملا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے 13 سالوں میں کے پی کی تباہی، حکومتی بیڈ گورننس کی بری حالت، دہشت گردی کو فروغ دینے، عوام کے مسائل، تعمیر و ترقی نظرانداز کرکے صرف بانی کی رہائی پر توجہ دینے اور احتجاج کے الزامات لگا کر 2022 میں اقتدار میں آنے والوں نے کے پی میں گورنر راج لگا کر وہی دعوے کیے جا رہے ہیں جو ساڑھے چار سال قبل پاکستان کے عوام سے کیے گئے تھے۔ پہلے تحریک انصاف نے ملک میں تبدیلی پھر موجودہ حکمرانوں نے کے پی میں ترقی و خوشحالی اور امن قائم کرنے کے وہی دعوے کیے ہیں جو پہلے پی ٹی آئی حکومت ختم کرا کر کیے تھے اور اب یہی حکمران اپنے پرانے دعوے دہرا رہے ہیں مگر ان کا ماضی کچھ اور ہی ثابت کر چکا ہے مگر کے پی کے عوام نے موجودہ حکمرانوں کو موقع تو دیا ہے مگر انھیں خوف ہے کہ یہ تبدیلی بھی اپریل 2022 جیسی تبدیلی ثابت نہ ہو۔ 2022 کی تبدیلی کے بعد 2026 میں ملک کے عوام ماضی کو یاد کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ اب بھی تبدیلی نہ آئی تو کسی اور کی حالت بدلے گی عوام کی نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل