Loading
بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا نے کہا ہے کہ وہ ایسے ملبوسات پہننے میں خود کو آرام دہ محسوس نہیں کرتیں جن میں جسم کی زیادہ نمائش ہو۔ ان کے مطابق فنکاروں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی کردار کے لیے مخصوص لباس یا منظر پر اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کر سکیں۔
رشمیکا نے یہ بات فلم ساز کرن جوہر کے شو ’کافی ود کرن‘ کے نویں سیزن میں گفتگو کے دوران کہی۔ اس موقع پر ان کے شوہر اور اداکار وجے دیوراکونڈا بھی موجود تھے۔
اداکارہ نے بتایا کہ بعض کرداروں کے تقاضوں کے تحت فلموں میں بکنی یا مختصر لباس پہننے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اداکار ہر مطالبے کو بلا اعتراض قبول کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ذاتی اصولوں پر قائم رہتی ہیں اور لباس کے معاملے میں اپنی حدود کا تعین خود کرتی ہیں۔
رشمیکا کے مطابق وہ ایسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں جو ان کی ترجیحات اور فیصلوں کو سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ہدایت کار ان کے مؤقف کو سمجھتے ہیں اور ان کے فیصلوں سے اتفاق بھی کرتے ہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فلم سائن کرنے کے بعد کسی مخصوص لباس یا منظر پر اعتراض کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض اداکاروں کو خدشہ رہتا ہے کہ اگر وہ اپنی ناپسندیدگی ظاہر کریں گے تو ان کے کام پر اثر پڑ سکتا ہے یا انہیں غیر پیشہ ور سمجھا جائے گا۔
وجے دیوراکونڈا نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ فلمی دنیا میں مقام حاصل کرنے کے باوجود ایسے معاملات پر اپنی رائے دینا مشکل ہو سکتا ہے۔ رشمیکا کا کہنا تھا کہ بعض اوقات فنکار کسی بات پر رضامند ہو جاتے ہیں، لیکن بعد میں محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اسی وقت اپنا مؤقف واضح کر دینا چاہیے تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ جب انہیں کسی ہدایت کار کے سامنے اپنی ناپسندیدگی بیان کرنا مشکل لگتا ہے تو وہ اپنے شوہر سے بات کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وجے انہیں حوصلہ دیتے ہیں کہ اگر وہ کسی لباس یا منظر میں آرام محسوس نہیں کرتیں تو انہیں صاف لفظوں میں اپنی بات کہنی چاہیے۔
وجے نے بھی زور دیا کہ کسی اداکار کو مختصر لباس پہننے یا کسی قریبی منظر کی عکس بندی سے انکار کرنے کا حق ہونا چاہیے اور ایسے انکار کو خودبخود غیر پیشہ ورانہ رویہ قرار نہیں دینا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل