Loading
وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے گمراہ کن الزامات عائد کر رہی ہے جبکہ پاکستان کے سیکیورٹی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے تدارک کے لیے ہیں۔
وفاقی وزارت اطلاعات سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان طالبان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے دہشت گردی سے متعلق خدشات قیاس آرائیوں پر نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور امریکی رپورٹس پر مبنی ہیں، امریکی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات نے بتایا کہ افغان طالبان کی حمایت اور ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی ملنے سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا، امریکی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار تک ہے۔
افغان طالبان کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاک-افغان سرحد سے دہشت گردوں کی دراندازی اور دہشت گردوں سے غیرملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی سنگین سوالات اٹھاتی ہے، افغان طالبان حکام، بشمول قندھار میں موجود عہدیداروں کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر وضاحت ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے سیکیورٹی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خطرات کے تدارک کے لیے ہیں، افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان کے اتحادی گروہوں کی حمایت اور سہولت کاری ختم کرے اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال ہونے سے روکی جائے۔
وزارت اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کو افغانستان دشمنی قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
مزید بتایا گیا کہ خطے میں امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے پاکستان کے بنیادی خدشے کو قابل تصدیق اقدامات سے دور کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل