Loading
’’ابھی پچھلی گلی میں کنواں کھدوایا جا رہا ہے اور سامنے والے بے چارے تو ہر چھ مہینے بعد اپنے کنویں پر کام کرواتے ہیں پتا نہیں پانی کے کیا مسائل چل رہے ہیں، حالانکہ کنویں کا پانی انتہا سے زیادہ کھارا ہے یہاں۔۔۔۔ پھر بھی کیا کریں پانی تو مجبوری ہے ناں۔
کراچی میں دن رات واٹر ٹینکرز کی آمد و رفت والے علاقے میں میٹھے اور کھارے پانی کے مسائل الگ لیکن حکومتی اداروں کی مایوس کن کارکردگی اور عوام کی بے بسی کے علاوہ قدرتی طور پر ایک بڑے خطرے کا سگنل مستقل بج رہا ہے بارہا اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے لیکن سننے والے کانوں میں مستقل بہرے پن کے مسائل الگ۔
پاکستان ایک بار پھر دوسرے نمبر پر کھڑا ہے اور یہ نمبر انتہائی مسائل کی جانب نشان دہی کر رہا ہے کہ یہاں زیر زمین آبی ذخائر کا نظام دوسرے نمبر پر دباؤ کا شکار ہے۔
یہ صورت حال بتا رہی ہے کہ ہمارے ملک میں جس انداز سے زیر زمین پانی نکالا جا رہا ہے اس سے ملک میں ہر سال زیر زمین پانی کی سطح تین فٹ تک نیچے جا رہی ہے۔ اس کی وجوہات زراعت میں پانی کا استعمال ہے۔
1953 سے لے کر 1956 تک پاکستان میں آب پاشی کا موثر ذریعہ ٹیوب ویل تھا، اس سلسلے کو مزید 1995 تک اس قدر موثر بنایا گیا کہ چالیس فی صد رقبہ ٹیوب ویل کی مدد سے سیراب کیا جانے لگا تھا۔
آج کل بھی بورنگ کے حصول کے لیے کوششیں کی جاتی ہیں کہ قدرتی طور پر یہ پانی حاصل کرنے کا ایسا ذریعہ ہے کہ جہاں سے جواب نفی میں نہیں ملتا۔ زیر زمین پانی دراصل وہ پانی ہے جو بارش ہونے کی صورت میں زمین کے اندر جذب ہو جاتا ہے، یہ پانی زمین میں موجود کشش ثقل کی حرکت کے باعث زمین کی اندرونی تہوں میں چٹانوں کے سوراخوں میں جمع ہوتا رہتا ہے زیر زمین پانی کی اس سطح کو واٹر ٹیبل کہا جاتا ہے۔
واٹر ٹیبل بارش کے زمانے میں اوپر آ جاتی ہے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں، خشک موسم میں یہ سطح نیچے چلی جاتی ہے۔ چشمے اسی زیر زمین پانی کی صورت میں زمین پر آتے ہیں جسے کہا جاتا ہے چشمہ پھوٹ پڑا۔ دراصل وہ واٹر ٹیبل کی بلند سطح کو عبور کرتے زمین سے باہر آ جاتا ہے۔
اسی واٹر ٹیبل کی سطح مختلف ممالک میں مختلف ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح مختلف جگہوں پر اس کی پیمائش الگ ہوتی ہے جسے کنویں کی صورت میں کھود کر حاصل کیا جاتا ہے کئی جگہوں پر یہ ٹیبل دو سو فٹ سے بھی گہری چلی جاتی ہے تو کہیں یہ تھوڑی کھدائی پر ہی دستیاب ہو جاتی ہے۔
پوری زمین کے تازے پانی کا اندازاً تیس فی صد حصہ اسی زیر زمین کی صورت میں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب بھی زمانہ قدیم کی طرح آبپاشی ہو رہی ہے جب کہ گزشتہ تیس پینتیس برسوں میں ہمارے ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ بارہ کروڑ سے زائد گویا دو گنا ہو چکا ہے۔
ان بارہ کروڑ افراد کی ضروریات زندگی اور برتاؤ میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے جو مجموعی طور پر ایک بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جن میں پانی کی کمی خاصی نمایاں ہے۔
اس وقت آب پاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا ساٹھ فی صد، پینے کے پانی کا ستر فی صد سے زیادہ اور صنعتوں کی تقریباً تمام ہی ضروریات تیزی سے ختم ہوتے موجودہ آبی ذخیرے پر منحصر ہے جو تشویش ناک بات ہے۔
ہمارے یہاں بارشوں کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ بھارت میں بارشوں کی صورت میں سیلاب کی زیادتی اور پانی کے رخ کو پاکستان کی جانب موڑ دینے سے یہ مسائل گمبھیر ہو جاتے ہیں اور دیکھا جائے تو پانی کے ذخائر کے منہ قدرت کی جانب سے کھل جاتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں اس قیمتی قدرتی میٹھے پانی کی اسٹوریج کے لیے ڈیمز نامناسب تعداد میں موجود ہیں۔ چھوٹے، بڑے، ناپختہ، کمزور اور کرپشن کا شکار زبوں حال ڈیمز پانی اسٹور تو کیا ہی کرتے ہیں الٹا آبادی پر بوجھ ثابت ہوتے ہیں جن کے ناتواں بند ذرا بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہوتے۔
یہ ایک الگ موضوع ہے، فی الحال بات ہو رہی ہے اس ناقص نظام کی جس کے تحت عوام اپنی مدد آپ کے تحت پانی کے حصول کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ شہری علاقوں کے رونے الگ ہیں اور دیہی علاقوں کے الگ لیکن صورت حال ایک ہی جیسی ہے۔ ہمارے زراعتی نظام میں بھی زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کے باعث زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں زیر زمین پانی کی سطح میں 71 فی صد کمی آئی ہے۔ زیر زمین پانی کو پمپ کی صورت میں کھینچنے سے یہ صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔ یہ بھی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں موسم زیادہ خشک ہونے کے باعث بھی زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کی رفتار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ایران میں بے شمار ڈیمز کے باوجود زیر زمین پانی کی کمی کی وجہ پمپس کے ذریعے پانی کو کھینچنے کی وجہ بتایا گیا ہے۔ حکومتی سطح پر زیر زمین پانی کو نکالنے کے حوالے سے صحت مندانہ فیصلے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔زیر زمین پانی کی کمی کے کیا نقصانات انسانی زندگی پر اثرات مرتب کر سکتے ہیں اس کا ہمیں ابھی احساس نہیں ہے ہمارے ارد گرد بلند و بالا عمارات، پلازے، پل اور دیگر ترقی کی راہ پر گامزن ہوا میں جھولتے تعمیراتی منصوبے سب زمین کی مٹی سے جڑے ہیں جو قدرت نے پانی سے گوندھ کر مضبوط بنائی ہے ۔
بنا پانی کے یہ مٹی خشک اور بھربھری ہو کر بکھر جاتی ہے تو ذرا تصور کریں کہ ہمارے ارد گرد اور ہمارے اپنے گھر، دفاتر، اونچی اونچی عمارتیں اور کچے پکے گھر انچ انچ زمین میں دھنستے جا رہے ہیں، خشک اور بھربھری مٹی اپنا کمال دکھاتی رہی ہے۔
سمجھداری اس میں ہے کہ آج پانی کے استعمال میں اعتدال سے کام لیں اور غاصبانہ پانی کی تقسیم کے عمل کو بند کر دیں۔ پکے اور توانا ضروری جگہوں پر ڈیمز کی تعمیرات ہمارے میٹھے پانی کی حفاظت اور اسٹوریج کے لیے بہترین پناہ گاہ ثابت ہوں گے بس ہمیں اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ ہمارے پیٹ بھرے اور سر پر سلامتی کی چھت قائم رہے، صرف ہمارے لیے ہی نہیں ،اس ملک کے ہر باسی کے لیے، پھر سب کچھ آسان رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل