Saturday, October 24, 2026
 

یورپ کی ویلفیئر اسٹیٹ کہاں گئی؟

 



سرمایہ دارانہ اصطلاح میں ’’جین زی‘‘ کہلائی جانے والی نئی نسل آج کل دنیا کے بیشتر ملکوں اور خطوں کے بعد معاشی اور سماجی چکی میں پستی ہوئی یورپ کی بھی نسل اور جین زی اپنے انسانی اور جمہوری حقوق لینے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے مسلط کیے گئے یورپ کے حاکموں سے اپنے مطالبات منوانے میں سرگرم نظر آتی ہے،آج فرانس،اٹلی،البانیہ ،پورتگال اور اسپین سمیت پورا یورپ امریکی فوجی طاقت اور امریکا کی سرمایہ دارانہ چال میں پھنس کر اپنی ’’ ویلفیئر اسٹیٹ‘‘کی ریت کے ڈھے جانے پر تنہا اور پریشان کھڑا ہے۔ سوشلسٹ نظام حیات کے انسان دوست نکتہ نظر کے خوف سے سرمایہ دارانہ مفادات میں بنائی گئی مصنوعی ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ یورپ میں اپنی قدرو قیمت کھوتی نظر آرہی ہے،ویلفیئر اسٹیٹ کی حاصلات کھونے میں یورپ کی جین زی کے اسی سوال کا جواب یورپ کے امریکی نژاد حکمرانوںکے پاس سر دست نظر نہیں آتا کہ انھوں نے کس بنیاد پر امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دے کر یورپ کی معاشی اور سیاسی تباہی کی؟ دنیا کی سیاسی تاریخ کی روشنی میں جب 1917میں زار شاہی کی شکست کے مقابل لینن کی سربراہی میں سوشلسٹ انقلاب آیا تو اس میں جہاں زار شاہی کی جنگ عظیم اول میں شکست وجہ بنی، وہیں روس میں زار کی آمرانہ پالیسیاںاور اس کے نتیجے میں شدید معاشی بحران،مہنگائی اور خوراک کی سخت قلت بھی اہم اسباب تھے۔ ولادیمیر لینن کی قیادت میں بالشویک سوشلسٹ انقلاب نے جہاں عوام کو روزگار،بہتر طبی سہولیات،گھر،ٹرانسپورٹ اور مفت توانائی کے ساتھ انجمن سازی کی ریاستی آزادی فراہم کی تو دوسری جانب دنیا کے مختلف خطوں میں فرانس،پرتگال اور برطانوی سامراج کا کالونیل نظام بھی کمزور ہوا۔ روس کے سوشلسٹ انقلاب کے نتیجے میں یورپ کے سامراجیوں میں یہ خوف جڑ پکڑ گیا کہ اگر یورپ کے عوام میں حکمرانی کا سوشلسٹ نظام کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ گیا تویورپ کی رہی سہی حکمرانی اور بادشاہت بھی ختم ہو جائے گی،اسی خدشے اور خوف کے سبب ان کالونیل لوٹ مار کرنے والی قوتوں نے اپنے طبقاتی اور حکمرانی کے مفادات کو بچانے کے لیے سوشلسٹ سوچ یا انقلاب کو یورپ میں روکنے کے لیے ’’عوامی ویلفیئر اسٹیٹ‘‘کا تصور دیا تاکہ یورپ کی عوام اقتداری حکمرانی کو تہس نہس نہ کردے اور ان کالونیل سامراجی حکمرانوں کے لیے عذاب نہ بن جائیں۔ یورپ میں نئی نسل اور جین زی کی موجودہ تحریک میں یورپ اور امریکا کے سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا یہ کھوکھلا معاشی نظام محض 30سال سے بھی کم عرصے میںاتنی دھڑام سے زمین بوس ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کہ یورپ اور امریکا کے عوام’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘کے دھوکہ دہی نظام پر آج اپنی معاشی محرومی پر نظریاتی سیاسی سمت کے بغیر یورپ کی بگڑتی ہوئی معاشی محرومیوں کے سبب مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ سمیت دنیا بھر کی سوشلسٹ فکر پارٹیاں یا سیاسی گروہ سوشلزم کو مربوط و موثر بنانے کی ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس کے نتیجے میں آج کی دنیا کی جین زی سیاسی و نظریاتی شعور کی تربیت و سوچ کے ساتھ عوام کو ہمیشہ کے لیے سرمایہ داری کے عوام دشمن نظام سے چھٹکارا دلوانے کا سبب بنے۔ اس موقع پر کمیونسٹ مینی فیسٹو کے خالق کارل مارکس کا یہ جملہ تمام کمیونسٹ فکر دوستوں کے ذہنوں میں رہے جس میں مارکس نے کہا تھا کہ ’’ یورپ میں کمیونزم کا بھوت منڈلا رہا ہے۔‘‘کیا یورپ کی اس سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینابلکہ اس پوری تحریک کو کمیونسٹ فکر سے جوڑنا کمیونسٹ دانش کا کام نہیں کیا؟ آج یورپ کے عوام کو ویلفیئر اسٹیٹ کے نام پر سہولیات فراہم کرنے والی اقتداری قوتیں عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے فرانس سے لے کر البانیہ،اٹلی اور دیگر جگہوں پر ریاستی طاقت کے تحت نمٹنا چاہتی ہیں،کیوں؟ اس کی بہت سادہ سی وجہ ہے کہ یورپ نے اپنے آپ کو امریکا کے لوٹ کھسوٹ کے سرمایہ دارانہ نظام کے حوالے کر دیا ہے ،جس کے تحت یورپ کی ویلفیئر ریاستیں امریکی احکامات یا امریکی ہدایات کی محتاج بن کر رہ گئی ہیں ،یورپ کے اس بحرانی کیفیت میں آج بھی امریکی حکمران انسانی تقسیم اور نفرت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے یورپ کے اس اقتصادی ناکام نظام کی کوتاہیوں کو نسلی تعصب یا یورپ میں بسنے والے تارکین وطن کو قرار دے کر یورپ کے عوام اور پوری دنیا میں حقائق کے خلاف بیانیہ دے کر در اصل دوبارہ سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ اور عوام دشمن نظام کو بچانا چاہتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں اپنے اختتام کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرمایہ دارانہ نظام عوام کی اقتصادی ترقی کے لیے اتنا ہی سود مند تھا تو وہ نظام سوشلسٹ روس کے انہدام کے بعد کیوں برقرار یا مستحکم نہ رہ سکا؟یا یورپ اور امریکی عوام کو دی جانے والی سوشل حاصلات میں دن بدن کٹوتی کیوں کرتے رہے؟ آج کی انسانی و سیاسی تاریخ کے اس رخ کو آپ کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں کہ سوشلسٹ روس کے سپر طاقت کے توازن بگڑنے کے بعد امریکا پوری دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا اور پوری دنیا کو سرمایہ دارانہ نظام کے پر فریب نعرے میں اپنا غلام بنا بیٹھا مگر دنیا کے عوام کو جمہوری و سیاسی آزادی کے ساتھ معاشی طور سے مستحکم نہ کر سکا،جو کہ دنیا کے عوام کا بنیادی حق تھا۔ اس تمام کے بر عکس ان سالوں میں امریکا نے دنیا کی معدنیات پر قبضہ کیا اور دوسری جانب اقوام متحدہ سے لے کر تمام معاشی ادروں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔ دنیا میں جین زی کے تناظر میں احتجاج کا پہلا پڑاؤمشرق بعید کے ملک تھائی لینڈ میں ڈالا گیا،جس کے نتیجے کے طور پر تھائی لینڈ کے اندر2014 میں نوجوان نسل کی جانب سے ملک میں جمہوریت کی آزادی اور ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج شروع ہوئے جو کسی نہ کسی طور2021تک چلتے رہے۔ تھائی لینڈ میں ان احتجاج کی روشنی میں بادشاہت کے اثر کو حکومتی امور سے کم کرنے کے لیے آئین میں تبدیلیاں کی گئیں مگر تھائی لینڈ میں بنیادی سرمایہ داری کے لوٹ کھسوٹ کے نظام میںاب تک کوئی عوام دوست تبدیلی نہیں لائی جاسکی ہے۔خطے میں نوجوان نسل کے ذہن میں جمہوری آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے تصور کو نیپال کی جین زی کی تحریک سے مزید حوصلہ ملا اور نیپال کی جین زی کے احتجاج اور جمہوری آزادی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش نے ان کی اس کو تحریک کو مزید تیز کیا جس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم کے پی شرما کو حکومت چھوڑنا پڑی اور نیپال کے نوجوانوں یا جین زی کی حکومتی اقربا پروری اور مہنگائی کے خلاف تحریک کسی قدر کامیاب تصور کی گئی۔ البتہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی جین زی تحریک وہ موثر نتائج نہ دے پائی جن کی توقع ہمارے خطے میں کی جا رہی تھی۔ جین زی کی نوجوان تحریک کا پڑاؤ آج کل مودی حکومت کے ہندوتوا کے خلاف کافی سر گرم دکھائی دیتا ہے،جس کے مطلوبہ نتائج پر دنیا اور بطور خاص برصغیر کے سیاسی پنڈتوں کی نظریں ہیں،جس میں کسی حد تک صاف ہو چکا ہے کہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘سے قوی آواز کمیونسٹ پارٹی لبریشن کی نیہا بورا میں نظر آتی ہے کہ نیہا بورا بھارت میں کمیونسٹ تربیت کا وہ نشان سمجھی جاتی ہے کہ جس نے اپنی صلاحیت سے لینن کے اصول ’’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘‘ رکھنے کی کمیونسٹ تربیت کو سمجھ لیا ہے اور یہی کمیونسٹ تربیت آج کی دنیا کے جین زی کے لیے بہت ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل