Saturday, October 24, 2026
 

30 سال بچوں کے دل بچانے والا پاکستانی سرجن برطانیہ کا ہیرو بن گیا

 



برطانیہ میں پاکستانی نژاد معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر آصف حسن کو بچوں کی زندگیاں بچانے اور طب کے شعبے میں غیر معمولی خدمات انجام دینے پر 2026 کے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔ ڈاکٹر آصف حسن نے اپنی زندگی کے تقریباً 30 سال ایسے بچوں کے علاج کے لیے وقف کیے جن کے دل میں پیدائشی نقائص تھے اور جن کی زندگی بچانا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا۔ ان کی خدمات نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو امید دی بلکہ بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے میں علاج کے جدید طریقوں کو بھی فروغ دیا۔ پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز کی ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر آصف حسن حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ نیو کیسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ رہے، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اندازاً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس کیے۔ ان کی طبی مہارت اور جدت نے ایسے بچوں کے لیے بھی زندگی کی امید پیدا کی جن کے لیے علاج کے امکانات انتہائی محدود تھے۔ ڈاکٹر آصف حسن نے بچوں کو دل کی پیوندکاری تک زندہ رکھنے کے لیے نیو کیسل کے ’برج ٹو ٹرانسپلانٹ‘ پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پروگرام میں برلن ہارٹ نامی میکانکی پمپ استعمال کیا جاتا ہے، جو عطیہ کردہ دل دستیاب ہونے تک بچوں کے دل کا کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے آپریشن کے بعد سینے کی ہڈی بند کرنے کا ایک منفرد طریقہ ’بوٹ لیس کلوزر‘ بھی متعارف کرایا، جس سے ایسے بچوں میں بھی دل کی پیوندکاری ممکن ہوئی جن کے سینے میں عطیہ کردہ دل کے حجم کے باعث پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ ڈاکٹر آصف حسن اور ان کی ٹیم فری مین اسپتال میں ایسے پیچیدہ مریضوں کا علاج بھی کرتی رہی جنہیں دوسرے مراکز زیادہ خطرے کے باعث قبول کرنے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے زیرِ علاج رہنے والے بچوں میں میکس جانسن اور سیسیلیا ادامو بھی شامل ہیں، جنہیں ماضی میں پرائیڈ آف برٹین کے ’چلڈرن آف کوریج‘ ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔ ان کی خدمات صرف آپریشن تھیٹر تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے برطانیہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں بچوں کے دل کے سرجنز کی نئی نسل کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا، تاکہ ان کے بعد بھی بچوں کی زندگیاں بچانے کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی ٹیم اور برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کو دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ ان کے کیریئر میں خوشی کے بڑے لمحات بھی آئے اور انتہائی تکلیف دہ تجربات بھی۔ انہوں نے ایسے مریضوں کو بھی دیکھا جن کی زندگیاں نہ بچائی جا سکیں، تاہم زندہ بچ جانے والے بچوں کی صحت یابی اور حوصلہ ہمیشہ ان کے لیے خوشی کا باعث رہا۔ ڈاکٹر آصف حسن کے مطابق ان کے ساتھ کام کرنے والے سرجنز، نرسز اور دیگر طبی عملے نے مریضوں کے لیے غیر معمولی قربانیاں دیں، جن کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی کمی محسوس نہ ہو، کیونکہ وہ ایسے سرجنز تیار کرنا چاہتے تھے جو نہ صرف اپنے کام میں ماہر ہوں بلکہ ان سے بھی بہتر ثابت ہوں۔ ڈاکٹر آصف حسن کا کہنا تھا کہ یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا فخر ہے کہ ان کے بعد بھی بچوں کی بہترین طبی نگہداشت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کی یہ کامیابی محض ایک ایوارڈ نہیں بلکہ اس عزم، انسانیت اور بے شمار خاندانوں کی دعاؤں کا اعتراف ہے، جس کے تحت انہوں نے تین دہائیوں تک ننھی جانوں کو زندگی کی نئی امید دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل