Monday, October 26, 2026
 

شرح سود میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی، صنعت کار ایسوسی ایشن

 



فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) نے نئی مانیٹری پالیسی کے تحت شرح میں 50پیسز پوائنٹس کے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی برآمدی اور ایس ایم ایز سیکٹر کے لیے عالمی مارکیٹوں میں حریف ممالک کے ساتھ مسابقت انتہائی مشکل ہوجائے گی۔ فباٹی کے صدر سید رضا حسین نے کہا ہے کہ شرح سود 11.5فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنا صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، مہنگی فنانسنگ کے باعث صنعتوں اور کاروباری اداروں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ صنعتی شعبہ پہلے ہی بلند پیداواری لاگت، مہنگائی، کساد بازاری اور مختلف معاشی دباؤ کا سامنا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں شرح سود میں اضافہ صنعتی شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا، بلند شرح سود کے باعث کاروباری اداروں کے لیے قرض کا حصول مہنگا ہونے سے نئی سرمایہ کاری، صنعتوں کے توسیعی مراحل اور پیداواری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فباٹی کے صدر نے کہا کہ بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرض تک رسائی مزید مشکل ہوجائے گی۔ صدر فباٹی نے کہا کہ صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو توقع تھی کہ اگر شرح سود میں کمی نہیں کی جاتی تو کم از کم اسے موجودہ سطح 11.5فیصد پر برقرار رکھا جاتا لیکن اسکے برعکس 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا گیا جو کاروباری اور مسابقتی ماحول کے لیے حوصلہ افزا فیصلہ نہیں ہے۔ سید رضا حسین نے حکومت اور اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ صنعتی و کاروباری شعبے کو درپیش لیکویڈٹی مشکلات کو دور کرنے کے لیے فنانسنگ کی لاگت کو کم کرنے کے ساتھ انہیں ایسا مثالی ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ پراعتماد انداز میں کم قیمتوں پر معیاری مصنوعات برآمد کرنے کے قابل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری طبقے کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کو چاہیئے کہ وہ شرح سود میں اضافے کی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے ایسا تیکنیکی میکنزم ترتیب دیں جو صنعتوں اور بالخصوص ایس ایم ایز کے لیے سستی فنانسنگ تک رسائی میں معاون ثابت ہوں تاکہ مقامی سرمایہ کاری کا حجم بڑھے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملنے سے غیرملکیوں کی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری دلچسپی بڑھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعتی شعبے کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل