Monday, October 26, 2026
 

کراچی: کلفٹن کے ساحل پر اولیوریڈلےنسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا

 



کلفٹن کےساحل پربھاری بھرکم اولیوریڈلےنسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا۔ سمندری کچھوے کی ہلاکت کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی،تاہم خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ سمندر میں کسی لانچ سےتصادم،جال میں پھنسنے یا آلودگی کےسبب ہلاک ہوا ہوگا۔ کلفٹن کےساحل پرایک بھاری بھرکم کچھوامردہ حالت میں ملا۔ اس سے قبل گرین ٹرٹل مردہ حالت میں ملنے کے کئی واقعات ہاکس بے اور سینڈزپٹ پر پیش آئے۔ تاہم، زیتونی نسل کے کچھوے کے ملنےکا واقعہ لمبے عرصے کے بعد پیش آیا۔ ایکسپریس نیوزسےبات چیت میں ڈبیلوڈبیلوایف(پاکستان)کےتیکنیکی مشیرمحمد معظم خان کا کہناتھاکہ تقریبا 20 سال قبل اولیو ریڈلےنسل کے کچھوے پاکستان کےساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے،جن میں شہرکےاہم ساحلی مقامات سینڈزپٹ،سنہرابیچ،ہاکس بےاورمنوڑہ سمیت دیگرمقامات شامل تھے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ساحلی افزائش میں نمایاں کمی واقع ہوئی اوراب کراچی سمیت پاکستان کےساحلوں پر ان کے باقاعدہ گھونسلے بنانےاورانڈے دینےکا مستند ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ ان کہنا تھا کہ کچھوے کی ہلاکت ممکنہ طورپرکسی ماہی گیری کےجال میں پھنسنےیا کسی لانچ سےتصادم کی وجہ سے ہوئی ہوگی جبکہ سمندری آلودگی بھی ایک یقینی جزوہے،کلفٹن کے ساحل پرمردہ حالت میں ملنے والا کچھوا اولیوریڈلےنسل سےتعلق رکھتا ہے۔ یہ نسل بحیرہ عرب کےسمندری پانیوں میں پائی جاتی ہے۔ تاہم، پاکستان کے ساحلوں پر اس کےافزائش نسل کا سلسلہ مکمل طورپررک چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسی ملک میں ایک اولیوریڈلے کچھوے کو جی پی ایس ٹیگ لگا کر اس کی سمندری نقل و حرکت کا مطالعہ کیا گیا،جس سے اس کے طویل سفراورافزائشی مقام تک پہنچنے کےبارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ٹیگ لگائےجانے کےبعد ایک کچھوے نے بحیرہ عرب عبور کیا اورعمان پہنچ کرافزائشِ نسل کےلیے قیام کیا۔ پاکستان میں بھی اس نوعیت کی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےکہ پاکستانی سمندری پانیوں میں پائے جانے والے اولیوریڈلے کچھوے افزائش نسل کےلیےکن ساحلی علاقوں کارخ کرتے ہیں اوران کی نقل مکانی کے راستے کون سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ یا جی پی ایس ٹیگنگ کےذریعےکچھوؤں کی نقل وحرکت کا جائزہ لینےسےان کےممکنہ افزائش کےمقامات، نقل مکانی کےراستوں اورسمندر میں درپیش خطرات کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں پاکستان اور خطے کےدیگر ممالک کے درمیان مشترکہ تحفظ کی حکمتِ عملی بھی تیارکی جاسکتی ہے۔ محمد معظم خان نےمزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان کےساحلی علاقے جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسنے والے اولیو ریڈلےنسل کے دو کچھووں کو بحفاظت آزاد کر کے سمندرمیں چھوڑدیا گیا۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے ساحلی پانیوں میں یہ نسل اب بھی موجود ہے۔ فشرمین سجاگ فورم کےچیئرمین محمد بخش جت نے کلفٹن کے ساحل پر نایاب سمندری کچھوے کی ہلاکت پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر میں پھینکی جانے والی پلاسٹک کی تھیلیاں، پلاسٹک کا دیگر کچرا اورآلودگی سمندری حیات کی بقا کےلیےسنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری حیات کا تحفظ اورماہی گیروں کےروزگارکوبرقراررکھنا ضروری ہے کیونکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنےوالانقصان بالآخر ماہی گیروں کی زندگیوں اورمعاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کےمطابق دستیاب تحقیقی ریکارڈ کےمطابق سن 80 اور 90 کی دہائی کےدوران کراچی کے ساحلوں پر اولیوریڈلے نسل کے کچھووں کے 500 سےزائد گھونسلے ریکارڈ کیے گئے۔ 1996 کےاوائل اور 1997 کےآخرمیں یہ تعداد انتہائی کم ہوکرصرف دوگھونسلوں تک محدود ہوگئی جس سےیہ ثابت ہورہا ہے کہ یہی وہ دورانیہ ہےجس میں زیتونی نسل کےکچھوے ناپید ہوناشروع ہوئے۔ بعد کےآنے والےبرسوں کی تحقیق اورجانچ پڑتال میں اس نسل کے افزائش نسل کےلیےتصدیق نہیں ہوسکی۔ ماہرین کی رائے ہے کہ سمندری آلودگی،ساحلی علاقوں میں بےانتہا انسانی سرگرمیوں،افزائشی مقامات کی قدرتی حالت میں تبدیلی،ماہی گیری کےجالوں میں کچھووں کے پھنسنےاورسمندری ماحول کوپہنچنے والےنقصان کوسمندری کچھووں کےلیےاہم خطرات میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم، اولیوریڈلے کچھووں کے پاکستانی ساحلوں سےروٹھنے کے درپردہ عوامل کی حتمی وجہ جاننے کےلیےمذید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق یہ کچھوے اب بھی شمالی بحیرہ عرب اور پاکستان کے سمندری پانیوں میں موجود ہیں، لیکن یہ معلوم کرنا ایک اہم سائنسی سوال ہے کہ افزائشِ نسل کے لیے آنے والی مادہ کچھوؤں کی آبادی کہاں منتقل ہوئی ہے۔ محمد معظم خان کے مطابق اولیو ریڈلے نسل کے کچھوے سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور افزائشِ نسل کے لیے طویل فاصلے تک نقل مکانی کرتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل