Loading
آج سے 308 سال پہلے یہاں مظلوم طبقے اور استحصالی حکمرانوں کے درمیان ایک طویل جنگ لڑی گئی تھی ،اگرچہ اس جنگ میں ظالم طبقے کو کامیابی حاصل ہوئی اور انھوں نے 25 ہزار غریب کسانوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ کے عظیم انقلابی مفکر شاہ عنایت اللہ کو بھی شہید کردیا، جو جھوک میں مساوات کے اصول پر مبنی نظام قائم کرنے والے رہنما تھے۔ انھوں نے جھوک کو تباہ و برباد کردیا، لیکن شاہ شہید کے فکر کو ختم نہ کرسکے۔ تین صدیاں گزرنے کے باوجود یہ فکر آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
شاہ عنایت شہید اپنے دور کے نہایت پڑھے لکھے عالم اور مفکر تھے، لیکن آج ان کے انقلابی فکر کو نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے ان کی اصل تعلیمات کو بھولا دیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد سندھ کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی، جنھوں نے ان کا ایک بڑا مقبرہ تعمیر کروا دیا، تاکہ ان کی انقلابی فکر کو کوئی اور سادہ سا رنگ دے کر دبا دیا جائے،لیکن تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔
اس نے اس خواہش کو پورا نہیں ہونے دیا۔ شاہ عنایت کی فکر آج بھی زندہ ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ ہر دور میں استحصالی طبقات کو چیلنج کرتی ہے۔ ورنہ غلام شاہ کلہوڑو، جن کے والد یار محمد کلہوڑو عرف خدا یار خان کے ہاتھ شاہ عنایت کے خون سے رنگے ہوئے تھے، وہ شاہ عنایت کا مقبرہ کیسے تعمیر کروا سکتے تھے؟ ڈاکٹر شاہ محمد مری کے بقول ’’شاہ عنایت کی فکر موجودہ دور میں بھی قابلِ عمل ہے۔‘‘
ہمارے وفد نے صوفی حضور بخش کے فرزند صوفی ظہیر حسین کی رہنمائی میں نہ صرف شاہ شہید کے مزار پر حاضری دی بلکہ مزار کے اندر شاہ شہید کے مساوات، انسان دوستی، امن اور ’’جو کھیت جوئے، وہی کھائے‘‘ کے فکر و فلسفے کو آگے بڑھانے کے لیے ویڈیو پیغامات بھی ریکارڈ کروائے۔مزار کے قریب ہم نے ان اجتماعی قبروں کو بھی دیکھا جنھیں ’’گنج شہیداں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں بڑے بڑے گڑھے کھود کر شہیدوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا تھا۔ صوفی ظہیر حسین حیدری نے بتایا کہ’’ قبرستان میں مختلف مقامات پر اس طرح کے سات ’’گنج شہیداں‘‘ یا اجتماعی قبریں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں پنہور اور لوڈ برادریوں کے لوگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
اگرچہ شاہ شہید کا وہ مقبرہ، جسے غلام شاہ کلہوڑو نے تعمیر کروایا تھا، خستہ حال ہوچکا ہے، تاہم اس کی مرمت کے لیے غور و فکر جاری ہے۔ یہ واحد مزار ہے جو محکمہ اوقاف کے زیر انتظام نہیں ہے۔ یہاں ہمیں نشے میں مدہوش کوئی شخص بھی نظر نہیں آیا۔ جھوک کا انقلاب آج بھی زندہ ہے،اگرچہ شاہ عنایت کی شہادت کے بعد جھوک شریف میں اجتماعی محنت اور آفاقی مساوات کا اصول رخصت ہوگیا، لیکن صوفی حضور بخش کی صورت میں آج بھی اس فکر کے داعی موجود ہیں۔ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں شاہ شہید کا فکر نہ صرف اپنی اصل صورت میں موجود ہے بلکہ آج بھی مزاحمت کا تقاضا کرتا ہے۔ جھوک کا انقلاب ہر دور میں کہیں نہ کہیں سر اٹھاتا رہتا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں سندھ کے وجود میں پیوست ہیں۔
امر جلیل اپنی کتاب ’’سندھ نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اگر سندھی لوگوں نے تاریخ میں اپنی انفرادی حیثیت میں کوئی بڑی جنگ لڑی ہے تو وہ جھوک کی جنگ ہے، جو مسلسل چار ماہ تک جاری رہی۔ پروفیسر ساجدہ چنہ کہتی ہیں کہ ’’جب ہم درسی کتابوں میں جھوک کی جنگ اور شاہ عنایت شہید کے بارے میں پڑھتے تھے تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔‘‘شاہ عنایت شہید کے فکر کے امین صوفی حضور بخش کہتے ہیں کہ ’’جھوک کا فکر اور فلسفہ آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ اس پر عمل کرکے ہی سندھ کے غریب عوام اور مظلوم طبقات، بالخصوص کسانوں کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر محمد علی مانجھی کہتے ہیں کہ’’ شاہ عنایت شہید نے جھوک میران پور میں مساوات پر مبنی نظام قائم کیا تھا، جس میں کسان، خواتین اور محنت کش بہت خوش تھے۔‘‘
سید سبط حسن لکھتے ہیں’’جب معاشرہ ماضی کی دلدل میں پھنس کر آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا تو تقریباً ڈھائی سے تین سو سال پہلے ایک مرد مجاہد نے مشترکہ معیشت کی بنیاد رکھ کر ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔ اس نیک نیت بزرگ کا نام شاہ عنایت ہے۔شاہ عنایت معیشت کے قانون کا یہ راز سمجھ چکے تھے کہ اصل چیز پیداواری عمل ہے اور حقیقی مساوات وہ ہے جو پیداواری عمل کے دوران قائم ہوتی ہے، نہ کہ پیداوار کی تقسیم کے وقت۔‘‘ اس لیے یہ بات واضح ہے کہ شاعر خواہ انسانی عظمتوں کا کتنا ہی بڑا امین کیوں نہ ہو، وہ کسی انقلابی جدوجہد کو تیز کرنے کا ذریعہ تو بن سکتا ہے، لیکن انقلاب برپا کرنے یا تبدیلی لانے کا راستہ صرف ایک مفکر اور فلسفی ہی دکھا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں شاہ عنایت سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے، جنھوں نے نہ صرف مساوات پر مبنی فکر اور فلسفہ پیش کیا، بلکہ اس پر عمل کرکے ایک ایسا معاشرہ قائم کرکے دکھایا جس کی ضرورت آنے والے ادوار میں بھی محسوس ہوتی رہے گی۔شاہ عنایت شہید کا سب سے اہم کارنامہ جھوک کی کمیون کا دفاع تھا۔ شاہ عنایت نے اسے بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل