Loading
انسان کی فکری تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس نے دانائی کو ہمیشہ متانت کے جُبّے، سنجیدگی کے رعب اور ظاہری وقار کے سانچے میں قید رکھنے کی کوشش کی ہے۔ افلاطون کے ’’فلسفی حکمران‘‘ سے لے کر وکٹورین عہد کی رسمی شائستگی تک، عقل سلیم کا ثبوت ہمیشہ ایک سخت گیر، غیر متحرک اور رسمی رویے میں تلاش کیا گیا۔ تاہم، بیسویں صدی کے اردو فکشن میں ابنِ صفی نے ’’علی عمران‘‘ کے کردار کی صورت میں ایک ایسا فکری اور نفسیاتی زلزلہ برپا کیا جس نے سنجیدگی اور عقل کے اس روایتی اور تاریخی تلازمے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ہم آج کے کالم میں عظیم ابن صفی کے علی عمران کو ایک مختلف جہت سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
یہ سوال محض ایک جاسوسی کہانی کے ہیرو کی مقبولیت کا نہیں، بلکہ علمیات، ساختیات اور جدید نفسیات کا ایک گہرا قضیہ ہے:۔کیا ابن ِ صفی نے عمران کے ذریعے اس مغالطے کو چیلنج کیا کہ عقل ہمیشہ سنجیدہ چہرے اور باوقار وضع قطع کی مرہونِ منت ہوتی ہے؟ اور کیا عمران کاڈھیلاپنا اور بظاہر احمقانہ رویہ اس معاشرتی سطحیت پر ایک مہلک طنز ہے جو انسانی جوہر کو اس کے ظاہری رویے کے گز سے ناپتی ہے؟
معاشرے نے ہمیشہ عقل پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کچھ خاص علامتیں وضع کی ہیں۔ بولنے کا دھیما پن، لباس کی نفاست اور رسمی آداب کی پاسداری۔ فرانسیسی فلسفی میشل فوکو نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف جنون اور تہذیب میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ طاقت کے مراکز عقل اور جنون کے درمیان ایک مصنوعی سرحد قائم کرتے ہیں، تاکہ جو رویہ ان کی وضع کردہ عقلیت کے سانچے میں پورا نہ اترے، اسے ’’دیوانگی‘‘ یا ’’نااہلی‘‘ قرار دے کر رد کر دیا جائے۔
ابن صفی کا علی عمران اسی فرسودہ سرحد پر حد فاصل کھینچتا ہے، وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری اور بے پناہ علمی استعداد رکھنے کے باوجود، معاشرتی اور دفتری جگہوں پر ایک احمق بنا رہتا ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے کے سامنے آئینہ رکھتا ہے جو عقل کو صرف اس وقت عقل مانتا ہے جب وہ متانت کا سستا اور پالش شدہ لباس پہن کر سامنے آئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران کا کردار فوکو کے اس نظریے کی عملی تعبیر ہے کہ عقل کی حتمی آزادی یہ ہے کہ وہ معاشرے کے وضع کردہ ’’سنجیدگی کے جبر‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔
فلسفے میں ’’فرائڈرک نیئچے ‘‘وہ پہلا متفکر تھا جس نے نقاب (ماسک) کی اہمیت کو دانائی کے لیے لازمی قرار دیا۔ نیئچے نے اپنی کتاب ’’بیوندڈگڈ اینڈ ایول‘‘میں لکھا تھا:
’’ہر وہ چیز جو گہری ہوتی ہے، نقاب کو پسند کرتی ہے۔ عمیق ترین افکار کے لیے نقاب ہی سب سے بڑا تحفظ ہے۔‘‘
نفسیات کے میدان میں سوئس ماہر ِ نفسیات کارل جنگ نے اس رویے کو ’’ٹرکسٹر آرکی ٹائپ‘‘ کا نام دیا۔ ٹرکسٹر وہ کردار ہے جو بظاہر احمقانہ، غیر سنجیدہ اور روایات شکن حرکتیں کرتا ہے، لیکن درحقیقت وہ پورے نظام کے تضادات اور منافقتوں کو بے نقاب کر رہا ہوتا ہے۔ شیکسپیئر کے ڈراموں کا ’’دیوانہ‘‘ ہو یا ’’اراسمس ‘‘ کی شاہ کار کتاب ’’ثنائِ جہالت‘‘ کا مرکزی خیال، دیوانگی اور مزاح کو ہمیشہ سچی دانائی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
عمران کی بے وقوفیاں یا بسا اوقات لچر پن، مہمل گفتگو اور بے ڈھنگی حرکات محض ایک جاسوس کا بھیس نہیں ہیں، بلکہ وہ اس کا نفسیاتی شیلڈ ہیں۔ ابنِ صفی نے عمران کے ذریعے ڈینش فلسفی ’’سورن کیرکیگارڈ‘‘ کے ’’غیر مستقیم ابلاغ‘‘ کا نظریہ تخلیق کیا۔ ’’کیرکیگارڈ ‘‘کے مطابق، جب معاشرہ اتنا کور چشم ہو جائے کہ وہ براہِ راست سچ کو برداشت نہ کر سکے یا اسے اپنے روایتی سانچوں میں ڈھال لے، تو دانائی کا واحد طریقہ یہ بچتا ہے کہ سچ کو طنز، ظرافت اور لغویت کے پردے میں پیش کیا جائے۔
معروف ماہر ِ عمرانیات ارونگ گوف مین نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’دا پریذیٹیشن اوف سیلف ین ایوری ڈے لائف‘‘ میں یہ فلسفہ پیش کیا کہ انسان معاشرے کے اسٹیج پر ایک اداکار کی طرح اپنا تاثر قائم کرتا ہے۔ معاشرہ کسی شخص کے اندرونی جوہر کی پیمائش نہیں کر سکتا، اس لیے وہ اس کے ظاہری مظاہرے کی بنیاد پر اس کی قابلیت اور سنجیدگی کا فیصلہ کرتا ہے۔ابن صفی کا علی عمران گوف مین کے اس ڈرامائی تاثر کو جان بوجھ کر تباہ کرتا ہے ۔
دیگر کلاسک کردار (مثلاً آرتھر کونن ڈائل کا شرلاک ہومز یا اگاتھا کرسٹی کا ہرکول پوائرو) اپنی ذہانت کا ثبوت اپنے رعب، نخوت اور غیر معمولی سنجیدہ تاثر سے دیتے ہیں۔ وہ اپنے علم کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں تاکہ سامنے والا دب جائے۔ اس کے برعکس، ابن ِ صفی کا عمران اپنی ذہانت کو چھپاتا ہے، وہ سامنے والے کو اس زعم میں مبتلا ہونے دیتا ہے کہ وہ برتر ہے۔ یہ نفسیاتی حکمت عملی ’’ سائیکولوجی سپیریرٹی کومپلیکس مینی پلیشن‘‘ جدید ترین گولڈن ہینڈ شیک اور ملٹری سائیکالوجی کا حصہ ہے، جسے ابن صفی نے دہائیوں پہلے اپنے فکشن کی بنیاد بنایا۔
ابنِ صفی کے ناقدین کی سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ انھوں نے عمران کو صرف ایک ’’جاسوسی ہیرو‘‘ کے طور پر دیکھا، لیکن اگر فلسفہ نو کی روشنی میں دیکھا جائے تو عمران کا کردار مشرقی اور مغربی فکر کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔در حقیقت،ابن صفی نے عمران کے ذریعے اردو فکشن کو ایک ایسا کردار دیا جو دنیا کے کسی بھی عظیم فلسفیانہ اور نفسیاتی شاہکار کے بالمقابل رکھا جا سکتا ہے۔ عمران اس مفروضے کا حتمی خاتمہ کرتا ہے کہ دانائی اور خوش طبعی دو متضاد چیزیں ہیں۔
اس نے ثابت کیا کہ سنجیدگی اکثر اوقات خالی پن اور تظاہر کا پردہ ہوتی ہے، جب کہ حقیقی عقل اتنی بے خوف ہوتی ہے کہ وہ دیوانگی کا لباس پہن کر بھی محفوظ رہتی ہے۔ ابنِ صفی کا عمران ایک ایسا ’’شاک تھراپی‘‘ہے جو تظاہر پرست معاشرے کو یہ بتانے کے لیے ضروری تھا کہ ’’ہر چمکتی ہوئی متانت عقل نہیں ہوتی اور ہر قہقہہ لگانے والا احمق بے وقوف نہیں ہوتا۔‘‘
ابن صفی نے جو کچھ لکھا، وہ شاید ان کے عہد کے ناقدین کی سطحی نگاہوں سے اوجھل رہا ہو، لیکن جدید نفسیات اور فلسفہ تظاہر کے آئینے میں علی عمران کا کردار تاریخِ ادب کا ایک بے مثل اور لازوال فکری حوالہ بن کر ابھرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل