Loading
پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں ایک ممتاز سیاستدان کے خلاف بنایا گیا بھینس چوری اور سانگھڑ کے ڈسٹرکٹ سیشن کی ایک بے بنیاد مقدمے میں گرفتاری کا معاملہ بہت مشہور ہوا تھا جس کو نصف صدی گزر چکی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ میں بھینس چوری کے ایک اور مقدمے میں یہ ریمارکس آئے کہ بھینس چوری اور موبائل چوری جیسے مقدمات سے ملک میں تماشا بنا ہوا ہے۔
ایک شخص پر سو مقدمات درج ہو جاتے ہیں، جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جج جسٹس عقیل نے دیے اور کہا کہ ایسے ہی مقدمات کی وجہ سے ہماری عدالتیں دنیا میں 136 ویں نمبر پر ہیں۔ جسٹس نے کہا کہ یہاں بھینس چوری کے مقدمات بھی درج ہوتے ہیں ،ایک شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں ایک سو سے زائد مقدمات درج ہیں، اس طرح کی حرکات پر لوگ ہنستے ہیں۔ اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں۔ ایک سابق رکن قومی اسمبلی پر بیماریاں پھیلانے اور فون چوری سمیت 47 مقدمات درج ہیں۔ جب لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنے مخالف کی گرفتاری پر خوش ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں آ جانے پر جب ان کے خلاف مقدمے بنتے ہیں تو پھر وہ عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں جس سے عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے۔نصف صدی میں حکومتی مخالفین پر بھینس چوری کا مقدمہ بنا تھا اور بھینس چوری جیسے مقدمات اب بھی بنائے جا رہے ہیں اور ایک سابق رکن قومی اسمبلی پر موبائل چوری کا بھی مقدمہ درج ہے۔
نصف صدی قبل بھینس کی جو قیمت ہوتی تھی اب اس قیمت سے زائد رقم کے موبائل لوگ استعمال کر رہے ہیں اور بھینس کی قیمت بھی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے، اس لیے بے بنیاد مقدمات بنانے والے بھینس اور موبائل فون کی قیمتوں کے حساب سے ایسے لوگوں پر مقدمات بنا دیتے ہیں جس کا علم ہونے پر مذاق حکومت کا اڑتا ہے اور لوگ بھی ایسے مقدمات پر یقین ہی نہیں کرتے اور ایسے بے بنیاد مقدمات حکومت کی بدنامی اور عدالتوں پر بوجھ کا باعث ہی نہیں بن رہے بلکہ لوگ ایسے مقدمات بنانے والوں کی عقل کا ماتم کرتے ہیں۔
بھینس چوری جیسے مقدمات دیہی علاقوں میں درج کرائے جاتے تھے جہاں مویشی چوری کرکے بھونگہ وصول کرنے کے واقعات بھی ہوتے تھے۔ متاثرہ افراد اپنے مویشی چوری کا مقدمہ فوری تھانے جا کر درج کرانے سے قبل علاقہ زمیندار کو مطلع کرتے تھے اور کھوجیوں سے فوری رابطہ کرتے تھے جو فوراً مویشی چوری کا کھوج لگانے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت استعمال کرکے مویشی اور چور کے پیروں کے نشانات دیکھتے دیکھتے وہاں پہنچ جاتے تھے جہاں نشان ختم ہو جاتے تھے اور وہ متاثرہ شخص کو حقائق بتا دیتے ہیں یہ سلسلہ دیہاتوں میں اب بھی جاری ہے اور جس کی چوری ہوتی ہے وہ پولیس کے پاس جانے کی بجائے بااثر شخص کی مدد یا بھونگہ دے کر اپنے مویشی واپس لے لیتا ہے۔ دیگر چوریوں میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
نصف صدی کے بعد پولیس کو بھینس چوری کے ساتھ موبائل فون چوری کا طریقہ ہاتھ آ گیا ہے۔ موبائل چوری کا مقدمہ سابق رکن قومی اسمبلی یا حکومتی مخالف کے خلاف درج کرنے والے پولیس اہلکاروں کو پتا ہے کہ حالات تبدیل ہو چکے۔ شہروں میں جگہ جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں جن کے ذریعے موبائل فون و نقدی یا گاڑی چھینے جانے کے ثبوت ریکارڈ ہو جاتے ہیں۔ اب دیہاتوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہونے لگے ہیں اور پولیس ان کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے ڈاکوؤں کو پکڑنے میں اکثر ناکام رہتی ہے یا کسی کے کہنے پر سیاسی مخالف یا سابق یا موجودہ ارکان اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج تو کر لیتی ہے کہ انھوں نے بھینس یا موبائل چھینے نہیں چوری کیے ہیں جس کا ثبوت ہوتا ہے نہ ریکارڈنگ مگر مقدمہ بنانے والے عقل استعمال نہیں کرتے کہ اس بے بنیاد چوری کے ثبوت کہاں سے آئیں گے اور ایسے مقدمات پر عدالتیں تو کیا عام آدمی بھی یقین نہیں کرے گا۔
اب ایسے مقدمات سپریم کورٹ میں بھی پہنچائے جا رہے ہیں اور جہاں فاضل جج جو ریمارکس دے رہے ہیں وہ پولیس سے زیادہ خود حکومت کی سبکی اور بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور کوئی ثبوت نہ ہونے پر ملزمان بری کر دیے جاتے ہیں مگر ایسے بے بنیاد مقدمات بنانے اور بعد میں سرکاری طور پیروی کرنے والے سرکاری وکلا بھی مقدمات کا فیصلہ خلاف آنے پر پریشان ہوتے ہوں مگر شرمندہ ایسے بے بنیاد مقدمات بنوانے والوں کو ہونا چاہیے جس سے پولیس بدنام ہو رہی ہو۔ ایک شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں ایک سو سے زائد مقدمات کے اندراج کا ذکر بھی ہو رہا ہے جو نچلی عدالتوں سے سپریم کورٹ پہنچائے جا رہے ہیں کیونکہ نچلی عدالتیں ہی ایسے بے بنیاد مقدمات کو سماعت کے قابل نہیں سمجھتیں تو ایسے مقدمات بعد میں اعلیٰ عدالتوں میں لے جائے جائیں گے تو یہی ریمارکس سننے میں آئیں گے اور بدنامی الگ ہوگی۔
جب کسی مقدمے میں اصل ملزم چھوٹ جاتے ہیں تو کمزور مقدمات بنانے والوں کی نااہلی پر حکومت قانونی کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ لاتعداد بے بنیاد مقدمات بنا کر عدلیہ کے ریمارکس سے بچنے کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں پراسیکیوٹر اور پولیس افسران اپنی عقل بھی استعمال کر لیں اور دباؤ میں بھی ایسے مقدمات بنائیں جو کم ہوں مگر ثبوت کے ساتھ ہوں۔ ایک دن میں ملزم مختلف شہروں میں جا کر جرائم نہیں کر سکتا اور عدالتیں حقائق پر فیصلہ کر رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل