Loading
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایران میں ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق اس اہم اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک روز قبل تہران میں ہونے والی بات چیت کے نتائج پر غور کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب خطے میں سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے پُرعزم ہے اور اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاہم اپنی سلامتی پر کسی قسم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اجلاس میں حوثیوں کی جانب سے باب المندب اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث خام تیل کی پیدوار اور ترسیل کے لیے نئے انتظامات اور امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ پیر کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں جن میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور علاقائی سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے ان مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیا تھا اور بعد ازاں انھوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل