Tuesday, October 27, 2026
 

ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کیلیے امپورٹرز نے حکومت سے سکیورٹی مانگ لی

 



ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور سنگین بحران سے بچنے  کے لیے ایل پی جی امپورٹرز نے سکیورٹی مانگ لی، امپورٹرز نے کہا ہے کہ ایران کے تین بارڈرز بند ہیں جبکہ سکیورٹی ناقص ہے جس کے سبب ایل پی جی باوزر کی ٹرانسپورٹیشن میں مسائل کا سامنا ہے۔ ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے سیکرٹری وزارت پٹرولیم اور ڈی جی نیشنل لاجسٹک کارپوریشن راولپنڈی کو خط لکھا ہے جس میں سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایران سے منسلک 3 بڑے بارڈر گبد، مند اور چاغی / ماشخیل کمرشل آمدورفت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس وقت صرف تفتان بارڈر آپریشنل ہے جبکہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے تفتان سے پنجاب تک گاڑیوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہے ایل پی جی لانے والی جو گاڑیاں عام طور پر 3 سے 4 دن میں پنجاب پہنچ جاتی تھیں، اب خراب کانوائے سسٹم، بار بار روکے جانے اور سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے 10 دن سے زیادہ لے رہی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایل پی جی انتہائی آتش گیر ہے، ڈرائیورز اور گاڑیوں کی جان کو شدید خطرہ ہے ایسے حالات میں ایل پی جی کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں لہذا تفتان سے پنجاب تک این ایل سی کا محفوظ قافلہ اسکارٹ فراہم کیا جائے، تفتان بارڈر پر پٹرولیم مصنوعات کی پرائیورٹی کلیئرنس کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے، بلوچستان میں ایف سی اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ محفوظ اور بروقت نقل و حرکت کے لیے رابطہ کیا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس عمل سے پنجاب میں ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی، صارفین کے لیے مستحکم قیمتیں اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنے گا۔ ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن نے یہ خط وزیراعظم سیکرٹریٹ، چیف کلکٹر کسٹم، کلکٹر کسٹم کوئٹہ، گوادر اور چیئرمین اوگرا کو بھی ارسال کردیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل