Loading
قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور ووٹروں پر اثرانداز ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیل کے اندرونی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو، بائیں بازو اور اب عرب ووٹروں کو خریدنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
انھوں نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دان اور ان سے وابستہ ذرائع ابلاغ قطر کو اپنے سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے طنزاً کہا کہ اگر ان دعوؤں کو درست مان لیا جائے تو گویا پورا اسرائیل ہی قطر کی ملکیت ہوگیا۔
انھوں نے کہا کہ قطر اسرائیل کے سیاسی یا انتخابی مقابلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل دین لیوین نے وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علم کے مطابق منظم بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت نہیں اور ووٹنگ قانون کے مطابق ہوئی۔
واضح رہے کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے دو روز قبل ہونے والے الیکشن میں عرب سیاسی جماعتوں پر قطر سے مالی معاونت لینے کے الزامات لگائے گئے تھے کیوں کہ اس بار عرب جماعتوں نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل