Loading
کچھ عالمی حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ایران کا نظام قابل اعتبار نہیں ہے۔ آخر یہ بات کہنے والے حلقوں کی دلیل کیا ہے؟ جب اس معاملے کی زمینی حقائق کے مطابق تحقیق کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ باتیں یا دلائل ایسے حلقوں کی جانب سے سامنے آتے ہیں جو مغربی ایشیاء میں ایران کے نظام اور اس کی صلاحیت کا پورا ادراک نہیں رکھتے ہیں۔ یا وہ امریکا اور اسرائیل کی حربی طاقت کا جو اندازہ لگاتے ہیں، وہ حقائق سے زیادہ مفروضوں پر قائم ہے۔جیسے یہ سوچنا کہ امریکا سپر پاور ہے‘اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا یا اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتایا اسے کوئی ملک زخم نہیں لگا سکتا۔
دوسری جانب یہ بھی دیکھا جاناچاہیے کہ ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ امریکا اپنی سفارتی ناکامیوں کو چھپانا چاہتا ہواورامریکی انتظامیہ دنیا کو مطمئن کرنے کے لیے یہ کہہ دے کہ وہ تو جنگ بند کرنا چاہتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ ایران کا نظام قابل اعتبار نہیں ہے۔
حالیہ دنوں بین الاقوامی میڈیا اور مغربی تھنک ٹینکوں کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ایرانی نظام ناقابل اعتبار ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طویل مدتی معاہدے کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔امریکا کے پالیسی ساز بھی اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں جب کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہتے ہیں کہ ایران ناقابل اعتبار ہے۔ لہٰذا سمجھوتہ کس سے کیا جائے۔ کیا واقعی یہ ایک حقیقت ہے؟ کیا امریکا کے پالیسی ساز جو منظرنامہ پیش کر رہے ہیں وہ واقعی ایسا ہے۔اس پر غور ہونا چاہیے۔اگر ہم تاریخی حقائق کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ دراصل امریکا کی اس پالیسی کا شاخسانہ ہے جو مغربی ایشیاء میں اس کی سیاسی اور عسکری اجارہ داری کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔
ایران نے بین الاقوامی سطح پر کیے گئے سمجھوتوں کی پاسداری کی، جس کی سب سے بڑی مثال جولائی 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ تھا جسے JCPOAبھی کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مہر بھی ثبت تھی۔ اس معاہدے کے دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی IAEAکی تمام رپورٹس میں تسلیم کیا گیا کہ ایران اپنے وعدوں پر سختی سے عمل پیرا ہے، لیکن مئی 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر اس بین الاقوامی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا اپنے کسی وعدے پر قائم رہے گا، اس کی ضمانت کون دے سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں کہ جب ایران اور امریکا کی جنگ بندی کی بات ہو رہی ہے تو اس وقت سفارتی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ اس نازک موڑ پر ایران کی ضمانت کا بوجھ کس کے حصے میں آئے گا اور اس کا رخ چین کی طرف موڑا جا رہا ہے۔کہا جا رہاہے کہ چین اس وقت اس معاہدے کی ضمانت لے گا۔اب یہاں سوال یہ اٹھ رہاہے کہ کیا چین امریکا کی ضمانت لے سکتا ہے کہ امریکا مستقبل میں کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا جیسا کہ ٹرمپ ہی نے 2018 میں ایک بین الاقوامی معاہدے کے ساتھ کیا تھا۔ ایک اورسوال یہ بھی اٹھ رہاہے کہ کیا چین اس وقت ایران اور امریکا کی جنگ بندی میں معاہدے میں ضامن بن کر ایران پر کوئی احسان تو نہیں کر رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ بیجنگ کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات کوئی عارضی سفارتی مہم جوئی نہیں ہیں، بلکہ یہ چین کے عظیم منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو یعنی BRI اورمغربی ایشیاء میں توانائی کی طویل مدتی سپلائی کا بنیادی ستون ہیں۔
مارچ 2023 میں بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا تاریخی معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ چینی حکام اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن اور امریکی اثر و رسوخ کا توڑ صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب خطے کے ممالک (بشمول ایران، خلیجی ریاستیں اور دیگر اتحادی) باہمی معاشی اور دفاعی انحصار کو فروغ دیں، لہٰذا، چین کا اس عمل میں شامل ہونا اس کی ی عالمی معاشی برتری کا ایک لازمی اور سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ ایران معاشی پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے اور جنگ کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ یہ گزشتہ دس ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے کہا جارہا ہے۔ دوسری جانب اگر ہم ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں حقائق اور معلومات کی بنیاد پر بات کریں تو ہمیںنظر آتا ہے کہ تہران نے گزشتہ47سال کی شدید ترین معاشی پابندیوں، اقتصادی ناکہ بندی اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی اور سائنسی صلاحیتوں کو منوایا ہے، وہ اب بھی مزاحمت کررہاہے۔
ایران نے اپنی ملٹری انڈسٹری کو خود کفیل بنایا ہے، جہاں وہ مقامی سطح پر ہائپرسونک میزائل، جدید ڈرونز اور کثیرالجہتی فضائی دفاعی نظام تیار کر رہا ہے۔اس کے علاوہ، خطے میں موجود اس کے اتحادیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب بھی مزاحمت کرنے کے قابل ہیں، کیونکہ ایران کا دفاعی ڈھانچہ اور جغرافیائی گہرائی اتنی مستحکم ہے کہ وہ تاحال قائم ہے، جو لوگ ایران کو تنہا سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل اکیسویں صدی کے اس نئے ملٹی پولرنظام کی زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل