Loading
امریکا کے مڈٹرم الیکشن طے کرینگے کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنا ہے یا کہ کسی ڈیل تک پہنچنا ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے امریکہ کو اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے ،ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے ،سیاسی مبصرین ان کی خارجہ پالیسی بشمول پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
مختصر یہ کہ صدرٹرمپ کی سیاست کا سب کچھ داؤپر لگا ہوا ہے۔امریکی ووٹروں کو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی سے کوئی دلچسپی نہیں ان کی ترجیحات میں مہنگائی،رہائش کے بڑھتے اخراجات اور روزگار اہم ہیں۔
امریکی سیاسی تاریخ میں حکمران پارٹی کو مڈٹرم انتخابات میں کم ہی کامیابی ملی ہے ،1934ء سے لے کر آج تک کی تاریخ کا جائزہ لیں توصرف 1934،1998اور2002ء میں وائٹ ہاؤس میں براجمان صدورکی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
1934ء میں صدر فرینکلین ڈی روزویلٹ کی ڈیموکریٹ پارٹی نے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کی ،1998ء میں صدر بل کلنٹن کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی الیکشن جیتنے میں کامیاب رہی۔
2002ء میں صدرجارج ڈبلیوبش کی جماعت ریپبلیکن پارٹی نے یہ الیکشن جیتے۔مڈٹرم الیکشن عمومی طورپر کسی بھی صدر کی مقبولیت کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔
ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کے 435 ارکان کا انتخاب ہردوسال بعد کیا جاتا ہے۔ارکان سینٹ کا انتخاب چھ سال کیلئے ہوتا ہے،ہردوسال بعد ایک تہائی ارکان اپنی مدت ختم ہونے پر فارغ ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے ارکان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
موجودہ انتخابات میں اگر ریپبلیکن پارٹی کامیاب ہوجاتی ہے تو صدر ٹرمپ کیلئے ایران کے ساتھ ڈیل طے کرنا آسان ہوجائے گا کیونکہ انہیں اس کیلئے ادارہ جاتی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔اس سے ایران پر بھی دباؤآئیگاکیونکہ صدر ٹرمپ دفاعی اخراجات کیلئے کانگرس سے فنڈز کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
صدر ٹرمپ بارہا اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ مزید جنگ نہیں چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ سے ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھیں گے،عالمی تجارت میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہونگی جس سے امریکی ووٹروں کو مثبت پیغام نہیں جائے گا۔
پاکستان کیلئے ان انتخابات میں کوئی بھی جماعت کانگرس پر کنٹرول حاصل کرے اہم نہیں،پاکستان کو یہ دیکھنا ہے کہ ان انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ بھرپور جنگ کی طرف جاتے ہیں یا کہ سفاتکاری کا راستہ اختیارکرتے ہیں۔
اب تک جنگی کارروائیوں کے حوالے سے امریکہ کی ایران پالیسی تضادات سے بھرپور رہی ہے۔سفارتی چینل کھلے بھی ہوں توامریکہ ایران پر فوجی دباؤبڑھاتا آیا ہے،لہذا اب بھی ایران پرمزید امریکی حملوں کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
ان انتخابات میں اگر ریپبلیکن جیت جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ اس کا یہ مطلب لیں گے ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے حوالے سے ان کی پالیسی درست ہے،اس سے ان کا اعتماد مزید بڑھ جائے گا۔اگر امریکہ کیلئے معاشی نتائج کو دیکھا جائے تو صدرٹرمپ کیلئے سفارتکاری کا آپشن بہتر رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل