Thursday, November 05, 2026
 

شارع فیصل کال سینٹر چھاپے میں 339 لیپ ٹاپ ضبط کیے جن سے غیرملکیوں کا ڈیٹا ملا ہے، این سی سی آئی اے

 



ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ کراچی میں اندازاً 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کررہے ہیں، حال ہی میں شارع فیصل پر واقع ایک کال سینٹر پر کارروائی کی گئی جس میں 100 خواتین اور 42 کم افراد سمیت 273 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، حالیہ کارروائی شہر کی تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف کی گئی ہے، شارع فیصل شہر میں کال سینٹرز کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں قائم ایک بڑی کمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں صرف مالکان کو گرفتار کرنے سے یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہوسکا، کیونکہ ایک گروپ کے مالک کی گرفتاری کے بعد اس کے رشتے دار نام تبدیل کرکے دوسری کمپنی قائم کرلیتے اور دوبارہ یہی سرگرمیاں شروع کردیتے تھے، اس نوعیت کی جعل سازی میں بعض اوقات ملازمین بھی مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے اب کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل پر واقع کال سینٹر پر ماضی میں بھی چھاپہ مارا جاچکا ہے، تاہم کارروائی کے بعد دوبارہ اسی نوعیت کا کام شروع کردیا گیا تھا، ماضی میں یہ طریقہ کار رہا ہے کہ صرف کال سینٹرز کے مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن اب پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کارروائی کے دوران تقریباً 100 خواتین اور 42 کم افراد سمیت 273 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن بچوں کی عمر تعلیم حاصل کرنے کی ہے، ان سے مبینہ طور پراسکیمنگ اوردیگرغیرقانونی کام  لیے جارہے تھے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ضبط کیے گئے 339 لیپ ٹاپ میں سے ہر ایک پر مختلف جعلی آن لائن آئی ڈیز بنائی گئی تھیں جبکہ ان میں کریڈٹ کارڈز رکھنے والے افراد کی اہم مالی معلومات بھی موجود تھیں، کارروائی کے دوران 152موبائل فونز اور4 سی پی یو بھی تحویل میں لیے گئے ہیں، ملزمان مبینہ طور پر مختلف پرکشش آفرز اور دیگر جھانسے دے کر کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کی تفصیلات حاصل کرتے اور ان کے اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیتے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کال سینٹرز کی سرگرمیوں میں منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی اور مرچنٹ نیٹ ورکس کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ سے ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا بھی ملا ہے، جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کال سینٹرز کے ذریعے صرف بین الاقوامی سطح پر ہی فراڈ نہیں کیا جارہا بلکہ مقامی شہریوں کو بھی مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا ہے،  ریٹائرڈ افراد کو بھی دھوکا دہی کے ذریعے لوٹنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، کارروائی سے قبل تمام اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور یہ آپریشن مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا، ادارے کا مقصد خواتین اور بچوں کو بلاجواز تنگ کرنا نہیں بلکہ انہیں جرائم پیشہ سرگرمیوں سے بچانا ہے، تاہم اگر ملازمین کا مجرمانہ ریکارڈ مرتب نہ کیا جائے تو اس طرح کی جعلسازی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا، والدین کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو ایسے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے سے نہیں روکتے تو انہیں بھی قانون کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے جبکہ اس حوالے سے دفعہ 109 کے تحت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے حالیہ دنوں میں ڈارک ویب سے متعلق ایک کیس میں متاثرہ بچی کو بازیاب کرانے سمیت دیگر اہم کارروائیاں بھی کی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں میں آن لائن منشیات کی فراہمی اور استعمال کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے، اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن ویب سائٹس کے ذریعے منشیات کی سپلائی اور گولیوں کے استعمال کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں آن لائن منشیات کی فراہمی کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ آن لائن ملازمتوں کے نام پر فراڈ کے واقعات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں، جاز کیش کے ذریعے بھی مختلف طریقوں سے مبینہ جعلسازی کی رقم منتقل کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ادارہ سائبر کرائم کے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی شخص کو محض کال سینٹرکےخلاف کارروائی میں اس بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی کال سینٹر کا ملازم ہے یا مالک ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل