Loading
پشاور کے علاقے خزانہ میں ماموں کی جانب سے موبائل کے غیرضروری استعمال سے منع کرنے پر بھانجی نے ننھی بچی کا گلہ دبا کر ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔
پولیس کے مطابق والدین اپنی 7 سالہ بچی کو بھانجی کے پاس چھوڑ کر گئے تھے اور بچی کے والد نے 6 ماہ قبل ملزمہ کو گھر میں موبائل فون پر باتیں کرنا اور غیر ضروری استعمال سے منع کیا تھا، جس کا رنج ملزمہ نے بچی کی جان لے کر کیا۔
پشاور کے رورل ڈویژن کی تھانہ خزانہ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید سائنسی خطوط پر تفتیش اور مؤثر حکمت عملی کی بدولت کم سن بچی کی گم شدگی اور اندھے قتل کا معمہ 24 گھنٹوں کے اندر حل کرتے ہوئے لاش برآمد کرلی جبکہ قتل میں ملوث ملزمہ کو گرفتار کرلیا گیا۔
مقدمے کے مطابق 6 نومبر 2026 کو بچی حلیمہ عمر تقریباً 6 /7 سال دختر انعام اللہ سکنہ خان بابا گڑھی کی گم شدگی کی رپورٹ اس کے چچا بلال الدین اکرام الدین کی مدعیت میں تھانہ خزانہ میں درج کرائی گئی تھی۔
واقعے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے، جس پر ایس پی رورل ڈویژن صابر گل خان کی نگرانی میں ڈی ایس پی خزانہ سرکل احسان اللہ مروت، ایس ایچ او تھانہ خزانہ قاضی اکمل خان اور تفتیشی افسر امتیاز خان پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
تفتیشی ٹیموں نے جدید سائنسی خطوط، ہیومن انٹیلیجنس اور مختلف پہلوؤں سے جامع تفتیش کا آغاز کیا، پولیس ٹیموں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر اندر اندھے قتل کا سراغ لگا لیا اور کم سن بچی کی نعش برآمد کرلی۔
پولیس نے بتایا کہ کامیاب کارروائی کے دوران تھانہ خزانہ پولیس نے لیڈیز پولیس کے ہمراہ قتل میں ملوث ملزمہ سکنہ خان بابا گڑھی کو گرفتار کرلیا۔
مزید بتایا کہ ملزمہ مقتول بچی کے والد کے چچا زاد ہے، جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ اس نے بچی کی والدہ کے ساتھ مبینہ گھریلو تنازع اور آئے روز ہونے والی لڑائی جھگڑوں کی رنجش پر پھانسی کرکے جرم کا اعتراف کرلیا، ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے اندھے قتل کا قلیل وقت میں سراغ لگانے اور ملزمہ کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور ٹیم کے لیے نقد انعام اور توصیفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل