Loading
پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ ریحاب شیخ نے عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستانی طالبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی کے اپنی غلطی کے باعث مجھے کم نمبرز دیے گئے جس کے باعث کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل میں داخلہ نہ مل سکا۔
ریحاب شیخ نے بتایا کہ 2023 میں تعلیمی بائیکاٹ کے باعث ان کے مقالے (تھیسس) کا جائزہ صرف ایک ہی ریویور نے لیا جس نے انھیں 57 نمبر دیے۔
ان کے بقول بعد ازاں نظرثانی (ریویو) کے عمل میں یہ نمبر بڑھا کر 72 کر دیے گئے تاہم اس تاخیر اور ابتدائی غلط گریڈنگ کے باعث وہ مقررہ وقت میں کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ حاصل نہ کرسکیں۔
ریحاب شیخ نے کہا کہ مقدمہ دائر کرنے کا مقصد صرف مالی ہرجانہ حاصل کرنا نہیں بلکہ یونیورسٹی سے غلطی کا باضابطہ اعتراف کروانا بھی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی معیار کے ادارے سے ایسی غفلت ناقابلِ قبول ہے خاص طور پر جب اس کے اثرات طالب علم کے کیریئر پر براہِ راست مرتب ہوں۔
تعلیمی ماہرین کے بقول برطانیہ میں یونیورسٹیوں کے خلاف گریڈنگ اور تشخیصی عمل پر قانونی چارہ جوئی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے تاہم حالیہ برسوں میں طلبہ کی جانب سے شفافیت اور جوابدہی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ ریحاب شیخ اس وقت برطانوی حکومت کی ایک منسٹری میں اعلیٰ عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہیں، اور ان کا کیس اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تشخیصی نظام اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس مقدمے پر کوئی تفصیلی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل