Loading
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق فریم ورک معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نے لبنانی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کی فوج کو غیر ضروری دباؤ اور خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔
نعیم قاسم نے مزید کہا کہ لبنانی فوج کو اسرائیلی حملوں اور دباؤ کا سامنا کراتے ہوئے اس کی حفاظت کے بجائے اسے ایسے انتظامات کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو فوج کی کارروائیوں اور داخلی معاملات پر بیرونی نگرانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
انھوں نے سوال اُٹھایا کہ لبنانی فوج کو مسلسل ذلت کا سامنا کیوں کرایا جا رہا ہے اور اسے اسرائیلی بمباری اور دباؤ کے سامنے کیوں دھکیلا جا رہا ہے جبکہ ریاست کو فوج کی حفاظت کرنی چاہیے۔
نعیم قاسم نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ حزب اللہ براہِ راست مذاکرات کے عمل اور فریم ورک معاہدے کو قبول نہیں کرتی۔
حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی موجودگی اور مسلسل حملوں کے ماحول میں اس سے ہتھیار چھوڑنے کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب لبنان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ سفارتی مذاکرات اور جنوبی علاقوں میں ریاستی فوج کی موجودگی بڑھانے کو ملک کی خودمختاری اور سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھتی ہے۔
گزشتہ ہفتے روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ ایک مجوزہ کمیٹی میں کن ممالک کو شامل کیا جائے، جو ’’پائلٹ زونز‘‘ میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور حزب اللہ کے ہتھیاروں و بنیادی ڈھانچے کی تلفی کی نگرانی اور تصدیق کرے گی۔
لبنانی صدارتی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مذاکرات میں اس نگرانی کے طریقہ کار اور متعلقہ کمیٹی کی تشکیل پر بات چیت ہوئی۔
نعیم قاسم نے اس مجوزہ نگرانی کے نظام پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنان کو ایسی تحقیقاتی کمیٹی کا پابند بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو لبنانی فوج کی تعیناتی، کارروائیوں اور داخلی معاملات کی نگرانی کرے گی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’حب الوطنی کہاں ہے؟ فوج کا وہ وقار کہاں ہے جسے محفوظ رکھا جانا چاہیے؟‘‘
ادھر امریکا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کی میزبانی کرے گا۔ یہ مذاکرات ستمبر کے اوائل میں روم میں ہونے کی توقع ہے۔
امریکا کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم کی جائے اور جنوبی لبنان میں سکیورٹی انتظامات، اسرائیلی فوج کے انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی سمیت متنازع معاملات پر پیش رفت ہو۔
تاہم حزب اللہ کی جانب سے فریم ورک معاہدے کو مسلسل مسترد کیے جانے سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہوگیا ہے۔
نعیم قاسم نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فریم ورک معاہدے پر نظرثانی کریں اور اسے واپس لیں۔
یاد رہے کہ رواں سال جون میں لبنان، اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایک سہ فریقی فریم ورک طے پایا تھا جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنا اور جنوبی لبنان میں سکیورٹی انتظامات کو مرحلہ وار معمول پر لانا تھا۔
معاہدے کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات اور جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا کا منصوبہ شامل ہے جہاں اسرائیلی فوج نے پوزیشنیں قائم کر رکھی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی جانی ہے۔ اس عمل کا آغاز چند مخصوص علاقوں سے کیا جا رہا ہے جنہیں آزمائشی یا پائلٹ زونز قرار دیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل