Saturday, September 12, 2026
 

بحرین کا ایران کے ساتھ خلیجی ممالک کے آبنائے ہرمز مذاکرات میں شرکت سے انکار

 



بحرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو عمان میں ہونے والی ملاقات میں شریک ہوگا تاہم بحرین نے ہفتے کو واضح کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ تاحال عمان نے اجلاس کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ دیگر خلیجی ممالک کی شرکت سے متعلق بھی صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں تھی۔ عمان کی ثالثی میں اہم علاقائی اجلاس مجوزہ ملاقات عمان کی ایک وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔ جس میں آبنائے ہرمز کے علاوہ خطے کے دیگر معاملات پر بھی گفتگو ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے خلیجی ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بہتر بنانے اور علاقائی سلامتی و تعاون کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ عمان کئی ماہ سے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔ دونوں ملک اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کس طریقے سے منظم کی جائے اور محفوظ بحری راستے کیسے بحال کیے جائیں۔ ایران کیا چاہتا ہے؟ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران اب بھی ایسے انتظام کا خواہاں ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جا سکے۔ تاہم عمان اس تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ معاملہ مذاکرات میں سب سے حساس نکات میں سے ایک بن گیا ہے، کیونکہ امریکا اور اس کے خلیجی اتحادی آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری گزرگاہ قرار دیتے ہیں اور ایران کی جانب سے ٹول یا فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ جون میں بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واضح کیا تھا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز پر کسی قسم کے ٹول یا فیس کو قبول نہیں کرے گا۔ عمانی وزیر خارجہ نے اس وقت کہا تھا کہ عمان کی جانب سے زیرِ غور انتظامات میں جہازوں سے گزرنے کی فیس عائد کرنا شامل نہیں۔ بحرین کا مؤقف کیوں اہم ہے؟ بحرین گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا آیا ہے۔ بحرین نے اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت بھی کی ہے۔ مئی میں بحرین کی پیش کردہ ایک قرارداد کو 112 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی تھی، جس میں آبنائے میں آزادیٔ نقل و حرکت اور تجارتی جہازوں کے تحفظ پر زور دیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں بحرین نے یمن میں حوثی جنگجوؤں کی کارروائیوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اقوام متحدہ میں حوثی حملوں کو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جبکہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے قریب اہم علاقوں میں اپنی پیش قدمی تیز کی ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید بحران کا شکار ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی انتہائی بلند ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی سپلائی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ٹینکروں پر فائرنگ کے واقعات نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی۔ اسی دوران ایران سے منسلک حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے قریب بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جس سے عالمی جہاز رانی کے لیے ایک کے بجائے دو اہم سمندری راستوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔ خلیج سے باہر بھی خطرات بڑھ رہے ہیں بحیرہ احمر کی صورتحال بھی تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ دی گارڈین کے مطابق ایران سے منسلک حوثی فورسز نے پیریم (میون) جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے، جو باب المندب کے قریب ایک انتہائی اہم مقام ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو سعودی تیل کی برآمد میں مدد دیتی تھی۔ اس پیش رفت نے عالمی تیل منڈی میں مزید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے ایک ڈرون حملے کے بعد اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر سعودی تیل کی برآمد میں مدد دیتی تھی۔ اس پیش رفت نے عالمی تیل منڈی میں مزید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔  پیر کا اجلاس کیا حاصل کر سکتا ہے؟ ایرانی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ پیر کے اجلاس سے فوری طور پر آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی حتمی معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی۔ مذاکرات کا مقصد فی الحال مختلف فریقوں کو ایک میز پر لانا، بحری آمدورفت کے انتظامات پر تبادلۂ خیال کرنا اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی، تجارت اور سلامتی کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل