Thursday, July 16, 2026
 

ایران کے کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان

 



ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنی جاری عسکری کارروائی ’نصر 2‘ کے آٹھویں مرحلے کے دوران کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے زیر استعمال سی-ریم ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے کسی آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کی، اور کویتی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ تاحال امریکا، کویت یا اردن کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں بھی کوئی آزادانہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی، خلیجی سلامتی اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل