Thursday, July 16, 2026
 

برطانیہ میں دو مساجد پر حملے کی مبینہ سازش، 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج

 



لندن: برطانیہ میں پولیس نے 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی سے متعلق مقدمہ قائم کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق لڑکے پر الزام ہے کہ وہ جنوبی لندن کی دو مساجد پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اس کا تعلق مبینہ طور پر انتہا پسند دائیں بازو کی سوچ سے تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لڑکے کو گزشتہ ہفتے ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے کی گئی تلاشی کے دوران ایسے دستاویزات اور مواد برآمد ہوا جس کے بعد اس پر دہشت گردی کی تیاری سے متعلق دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلاناگن نے بیان میں کہا کہ یہ ایک کم عمر لڑکے کے خلاف انتہائی سنگین دہشت گردی کا مقدمہ ہے اور اس سے مقامی کمیونٹی اور عوام میں تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ شواہد ملے ہیں کہ لڑکا دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، تاہم اس مرحلے پر حکام کو کسی بڑے یا وسیع نیٹ ورک کے موجود ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ برطانوی حکام نے کہا ہے کہ احتیاطی طور پر متعلقہ مساجد سے رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں ضروری معاونت اور سکیورٹی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران انتہا پسند دائیں بازو سے وابستہ واقعات اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث برطانوی سکیورٹی ادارے ایسی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے جبکہ پولیس نے عوام سے افواہوں سے گریز اور صرف سرکاری معلومات پر انحصار کرنے کی اپیل کی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل