Loading
پاکستان میں روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دہائیوں پرانا ہے، لیکن آج کے سندھ، خصوصاً کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے بڑے شہری مراکز میں ایک عام متوسط اور غریب شہری کے لیے مکان کا ’’کرایہ‘‘ دینا اور چھت کا تحفظ حاصل کرنا زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکا ہے۔
صوبہ سندھ میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے خاندان آباد ہیں جو اپنی آمدنی کا آدھے سے زیادہ حصہ مکان یا فلیٹ کے کرایوں کی مد میں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ میں کرایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ ایک قانون (S R P O- 1979) ’’سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈیننس 1979‘‘ موجود ہے، لیکن اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس قانون کی موجودگی کے باوجود پراپرٹی کے کاروبار کرنے والوں اور اسٹیٹ ایجنٹوں نے مالکان مکان کے ساتھ مل کر ایک ایسا گٹھ جوڑ بنا لیا ہے جو دن دیہاڑے کرایہ داروں کا معاشی اور ذہنی استحصال کررہا ہے۔
جب ہم سندھ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں کا پورا نظام جنگل کے قانون کے تحت چل رہا ہے۔ قانون سازوں نے 1979 میں یہ قانون اس لیے بنایا تھا تاکہ مالک اور کرایہ دار دونوں کے حقوق میں ایک توازن برقرار رہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون کی شقوں میں موجود سقم کا پراپرٹی ڈیلرز اور اسٹیٹ ایجنٹوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مالکان کے خودغرضانہ معاشی مقاصد کو پورا کرنے اور اپنا کمیشن بڑھانے کے لیے قانون کو موم کی ناک بنا دیا ہے، جس کی قیمت لاکھوں بے سہارا کرایہ دار سسکیاں لے کر چکا رہے ہیں۔
11 ماہ کے ’خلافِ قانون‘ ایگریمنٹ کا جال
سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈیننس 1979 کی سب سے بڑی صریح خلاف ورزی اور استحصال کا سب سے بڑا ہتھیار ’’11 ماہ کا کرایہ داری معاہدہ‘‘ ہے۔ اسٹیٹ ایجنٹوں نے یہ ایک غیر قانونی اور من گھڑت روایت قائم کر رکھی ہے کہ ہر کرایہ نامہ صرف 11 ماہ کے لیے بنوایا جاتا ہے۔ اس 11 ماہ کی مدت کے پیچھے ایک گہری چال اور دہرا فرار چھپا ہوا ہے۔
پہلا فرار یہ ہے کہ قانون کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طویل مدت کا ہو تو اسے باقاعدہ سب رجسٹرار آفس میں رجسٹرڈ کرانا پڑتا ہے اور اس پر اسٹیمپ ڈیوٹی اور سرکاری فیسیں عائد ہوتی ہیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ اور مالکان اس سرکاری رجسٹریشن اور قانونی دستاویزی دائرے میں آنے سے بچنے کے لیے 11 ماہ کا سادہ ایگریمنٹ بناتے ہیں، جو محض ایک نوٹری پبلک سے منتقش کروا لیا جاتا ہے۔
دوسرا اور سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ 11 ماہ کا وقت ختم ہوتے ہی اسٹیٹ ایجنٹ اور مالک مکان کو یہ لائسنس مل جاتا ہے کہ وہ کرایہ دار کو بلیک میل کریں۔ 11 ماہ پورے ہوتے ہی کرایہ دار کو مکان خالی کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے یا پھر اس کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کرایے میں من مانا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹیٹ ایجنٹ مالک اور کرایہ دار دونوں سے ’’دوبارہ تجدید‘‘ کے نام پر ایک ایک مہینے کا نیا کمیشن اینٹھ لیتا ہے۔ یوں، ہر 11 ماہ بعد کرایہ دار ایک نئے معاشی جھٹکے اور ذہنی کرب سے گزرتا ہے۔
کرایوں میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا غیر قانونی کاروبار
سندھ کا رینٹڈ پریمیسس قانون (SRPO-79) کرایوں میں اضافے کے حوالے سے بالکل واضح اور دوٹوک شقیں رکھتا ہے۔
قانون کی متعلقہ دفعات کے مطابق:
کسی بھی رہائشی یا تجارتی مکان کا کرایہ ابتدائی تین سال تک نہیں بڑھایا جاسکتا، اور تین سال کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی کرایے میں سالانہ اضافہ 10 فیصد سے زائد نہیں ہوسکتا۔ لیکن سندھ کے کسی بھی شہر میں اس قانون پر عمل نہیں ہو رہا۔ اسٹیٹ ایجنٹوں نے جو 11 ماہ کے خلافِ قانون ایگریمنٹس تیار کر رکھے ہیں، ان میں پہلے ہی دن سے یہ شق زبردستی شامل کردی جاتی ہے کہ ’’ہر 11 ماہ بعد کرایے میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوگا‘‘۔ یہ شق قانون کی روح اور اس کی بنیادی دفعات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مہنگائی کے موجودہ دور میں جہاں تنخواہوں میں ایک روپے کا اضافہ نہیں ہورہا، وہاں ہر سال کرایے میں 10 فیصد یا اس سے زائد کا جبری اضافہ کرایہ داروں کی کمر توڑ دیتا ہے۔ اگر کرایہ دار اس غیر قانونی شق پر اعتراض کرے، تو اسٹیٹ ایجنٹ اور مالک مکان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے ’’اگر وارا کھاتا ہے تو رہیں، ورنہ مکان خالی کر دیں‘‘۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں ٹرانسپورٹیشن اور بچوں کے اسکولوں کی وجہ سے مکان تبدیل کرنا ایک ڈراؤنا خواب ہے، کرایہ دار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
روٹین مینٹیننس: مالک کا فرض، کرایہ دار کا قرض
قانون کی دھجیاں اڑانے کی ایک اور مثال مکان یا فلیٹ سے منسلک مینٹی نینس اور اس کے چارجز ہیں جو ذمہ داری میں شامل ہیں۔ مثلاً مکان، دکان یا فلیٹ تک رسائی کا پہلے سے انتظام ہونا (ہائی ریزڈ عمارت میں لفٹ کا ہونا) مکان، دکان یا فلیٹ میں پانی بجلی اور سوئی گیس کا کنکشن ہونا (یوٹیلٹیز بلز کی ادائیگی بہ ہر حال کرایہ دار کی ذمے داری ہے) مکان، دکان یا فلیٹ کی سال دو سال بعد حسبِ ضرورت سفیدی، وائرنگ، پلمبنگ اور دیگر ضروری مرمت، پانی کے پائپوں کی لیکیج، سیوریج لائنوں کی درستگی اور سفیدی وغیرہ۔ اس متعلقہ قانون کے تحت یہ سب کچھ بنیادی طور پر مالکِ مکان کی قانونی ذمہ داری ہے مگر عملی طور پر، اسٹیٹ ایجنٹوں نے ایگریمنٹ کی زبان کو اس طرح مسخ کردیا ہے کہ روٹین کی تمام مینٹی ننس اور ٹوٹ پھوٹ کا ملبہ بھی کرایہ دار کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ فلیٹوں کی چھتیں ٹپک رہی ہوں، بورنگ کا پمپ خراب ہوجائے، یا وائرنگ جل جائے، مالک مکان صاف مکر جاتے ہیں۔ کرایہ دار کو اپنی جیب سے ہزاروں روپے لگا کر وہ مکان رہنے کے قابل بنانا پڑتا ہے، اور جب وہ مکان خالی کرتا ہے، تو وہ تمام تر مرمت مالک مکان کے پاس ہی رہ جاتی ہے۔ یہ کرایہ داروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اس متعلقہ قانون کے تحت عمارت کی ساختیاتی صحت بنیادی طور پر مالکِ مکان کی قانونی ذمے داری ہے کیونکہ وہ اس جائیداد کا مالک ہے اور اس سے منافع (کرایہ) کما رہا ہے۔ مگر بالعموم 11 ماہ کے خلاف قانون ایگریمنٹ میں یہ سب کچھ اور مینٹی ننس چارجز بھی کرایہ دار کے ذمے لکھوائے جاتے ہیں۔ جو کہ قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور کرایہ داروں کا واضح استحصال ہے۔
معاشی اور نفسیاتی استحصال کے سماجی نقصانات
قانون پر عمل درآمد نہ ہونے اور اسٹیٹ ایجنٹوں کی اس غنڈہ گردی نے سندھ کے کروڑوں کرایہ داروں کو شدید نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ایک کرایہ دار پورا سال اس خوف میں گزارتا ہے کہ سال پورا ہونے والا ہے، مالک مکان کتنے ہزار روپے بڑھائے گا؟ کیا مجھے دوبارہ ایڈوانس اور سیکیورٹی ڈپازٹ کا انتظام کرنا پڑے گا؟
اس معاشی عدم تحفظ کی وجہ سے مڈل کلاس خاندان اپنے بچوں کی تعلیم، صحت اور خوراک کے بجٹ میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔ رینٹ کنٹرولر کی عدالتوں کا چکر لگانا ایک عام شہری کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہاں برسوں مقدمات لٹکے رہتے ہیں اور وکیلوں کی فیسیں کرایے کے بجٹ سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت، گھریلو ناچاقی اور ذہنی امراض کی شرح بڑھ رہی ہے۔
قانون کو اپ ڈیٹ کرنے اور سخت نگرانی کی ضرورت
سندھ رینٹڈ پریمیسس آرڈیننس کو بنے تقریباً 47 سال گزر چکے ہیں۔ یہ قانون اب موجودہ دور کے معاشی تقاضوں، پاپولیشن ڈینسٹی اور ہاؤسنگ بحران کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی اور قانون سازوں کی یہ اولین ذم داری ہے کہ وہ اس پرانے قانون کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں اور اس میں موجود خامیوں کو دور کریں۔
جدید دور کے تقاضوں کے مطابق درج ذیل اصلاحات ناگزیر ہیں:
1. ڈیجیٹل رینٹل رجسٹری کا قیام: سندھ حکومت کو پنجاب اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ایک آن لائن ’’رینٹل پورٹل‘‘ بنانا چاہیے، جہاں ہر مالکِ مکان اور اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے اپنے کرایہ دار کا معاہدہ رجسٹرڈ کرانا لازمی ہو۔ 11 ماہ کے کاغذی ایگریمنٹس کو قانونی طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
2. اسٹیٹ ایجنٹوں کے لیے لائسنسنگ اور ضابطہ اخلاق: محکمہ ایکسائز یا متعلقہ اداروں کے تحت ہر پراپرٹی ڈیلر اور اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا جائے۔ جو ایجنٹ قانون کی شقوں کے برخلاف ایگریمنٹ تیار کرے، اس کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے اور اسے بھاری جرمانہ کیا جائے۔
3. ابتدائی 3 سال کی شق کا سخت نفاذ: قانون کی اس شق پر سختی سے عمل کرایا جائے کہ 3 سال سے پہلے کرایہ نہیں بڑھے گا۔ رینٹ کنٹرولر کی عدالتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کرایہ داری کے تنازعات کا فیصلہ زیادہ سے زیادہ 30 دنوں کے اندر کریں۔
4. روٹین مینٹی نینس کی واضح تعریف: قانون میں ترمیم کرکے یہ واضح کیا جائے کہ مینٹی نینس مثلاً مکان، دکان یا فلیٹ تک رسائی کا پہلے سے انتظام ہونا (ہائی ریزڈ عمارت میں لفٹ وغیرہ کا ہونا) مکان، دکان یا فلیٹ میں پانی بجلی اور سوئی گیس کا کنکشن ہونا (یوٹیلیٹیز بلز کی ادائیگی بہ ہر حال کرایہ دار کی ذمہ داری ہے) مکان ، دکان یا فلیٹ کی سال دو سال بعد حسبِ ضرورت سفیدی/ پینٹ کے اخراجات ، وائرنگ، پلمبنگ اور دیگر ضروری مرمت، پانی کے پائپوں کی لیکیج، سیوریج لائنوں کی درستگی وغیرہ مالک کے ذمے ہوں گے، اور اگر مالک یہ کام نہ کروائے تو کرایہ دار کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ یہ رقم ماہانہ کرایے سے وضع کرسکے۔
مختصر یہ کہ ہماری اس تحریر کا حاصل یہ ہے کہ سندھ میں لاکھوں کرایہ داروں کا جاری استحصال حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم ایک طرف ہاؤسنگ اسکیموں کے دعوے کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کرایے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں، انہیں اسٹیٹ ایجنٹوں اور سنگدل مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت اس دیرینہ اور سنگین مسئلے پر جاگے، 1979 کے قانون کو جدید خطوط پر استوار کرے اور اس کے نفاذ کے لیے ایک سخت مانیٹرنگ سسٹم قائم کرے۔ جب تک کرایہ داروں کو چھت کا تحفظ اور معاشی سکون نہیں ملے گا، تب تک معاشرے میں استحکام کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل