Loading
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور دوبارہ جنگ کے خدشات کو عالمی معیشت کے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال 27-2026 میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو کا تخمینہ 3.5 فیصد ہے جبکہ حکومت نے 4 فیصد ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں گزشتہ مالی سال کی 3.7 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں معاشی رفتار میں معمولی سست روی کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے اور 2026 کے دوران عالمی افراط زر 4.7 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، اسی طرح خام تیل کی اوسط قیمت 89 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہےجس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔
رپورٹ میں عالمی معیشت کی شرح نمو 2026 میں 3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کو عالمی معیشت کے لیے مثبت سہارا قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورت حال خطے اور دنیا کی اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے جبکہ عراق، کویت اور قطر کو 2026 کے دوران معاشی سکڑاؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل