Loading
جامعہ کراچی میں 2 طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والا جھگڑا تصادم کی شکل اختیار کر گیا جس کے باعث طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق طلبا کے دونوں گروپوں کی جانب سے لاٹھی ، ڈنڈوں ، مکوں ، پتھروں کا آزادنہ استعمال کیا گیا ، تصادم کے نتیجے میں دونوں طلبہ تنظیموں کے نصف درجن سے زائد کارکنان جبکہ بیچ بچاؤ کرانے کے دوران ٹیچر بھی زخمی ہوئے۔
تصادم کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کیا جبکہ وزیر جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے تصادم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
طلبا تنظیم کا احتجاج
تصادم کے بعد پولیس نے کچھ طلبا کو شرپسندی کے الزام میں گرفتار کیا جس پر ایک طلبہ تنظیم کی جانب سے مسکن چورنگی کے قریب احتجاج کر کے ٹریفک معطل کیا۔
احتجاج کے باعث گلشن اقبال سمیت ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
پوچھ گچھ کیلیے طلبا زیر حراست
ترجمان ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کے جاری اعلامیے کے مطابق جامعہ کراچی میں دو طلبہ گروپوں کے درمیان تصادم کی اطلاع پر ایسٹ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورتحال کو کنٹرول کیا جبکہ تصادم کے دوران متعدد طلبہ طلبا ڈنڈوں کے وار سے زخمی ہوئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے واقعے میں ملوث متعدد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیکر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ پولیس امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات سمیت تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے رہی ہے۔
وزیر جامعات کا نوٹس
دوسری جانب وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم کا نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔
انھوں نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف یونیورسٹی قواعد و ضوابط اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جبکہ زخمی طلبہ اور اساتذہ کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی بھی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جامعات علم و تحقیق کے مراکز ہیں جہاں تشدد ، ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی ، انھوں نے تمام طلبہ تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تعلیمی ماحول کو پرامن رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیر جامعات نے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ کیمپس میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ وہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق زخمی طلبہ کی نشاندہی پر واقعے میں مبینہ طور پر ملوث 5 طلبہ کو پولیس نے حراست لیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں کہا کہ طلبہ پر حملہ کرنے والے عناصر کا تعلق کسی بھی طلبہ تنظیم یا جماعت سے ہو ان کے خلاف قابل اطلاق فوجداری قوانین اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
وزیر داخلہ کا نوٹس
بعد ازاں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کراچی یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کے درمیان تصادم اور تشدد کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔
وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹی میں امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور واقعے میں ملوث تمام شرپسند عناصر چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو، فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تشدد، خوف و ہراس اور قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ طلبہ کے جان و مال کا تحفظ حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والے طلبہ کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ پر تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کا ماحول پرامن، محفوظ اور تعلیم دوست ہونا چاہیے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل