Loading
آج پاکستان میں انارکی کی فضا اور افراتفری مچی ہوئی ہے، جس کی لاٹھی بے شک اسی کی بھینس ہے، ملکی فضا غیر منصفانہ رویے کی وجہ سے مکدر ہو چکی ہے۔ ایسا ہی حال بے شمار گھرانوں کا ہے جہاں یا تو بہت زیادہ آزادی اور اسلامی تعلیم کا فقدان ہے یا پھر یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی ناخواندگی اور غربت میں مبتلا ہے اس کی خاص وجہ ہمارے حکمرانوں کی غیر توجہی اور اپنی عوام سے دوری، ملکی خوشحالی اور ترقی سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ حال ہی میں مصطفیٰ عامر کی موت اور اس پر تشدد نے لوگوں کو دکھی کر دیا ہے۔ ماضی کے عبرت ناک واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طرح قاتلوں نے جوان لڑکوں کو ان کی ماؤں کے سامنے خون میں نہلا دیا اور پاکستان کی تعلیم یافتہ بیٹیوں کا سرعام قتل کیا گیا، ان کے چہروں پر تیزاب پھینکا گیا اس قسم کے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوئے ہیں۔ ان ظالموں کو باعزت طور پر بری کر دیا گیا اور مقتول کے والدین کو ملک چھوڑنے اور قصاص لینے پر مجبور کر دیا گیا بہت سے ماں باپ نے تو قصاص کی رقم کو بھی لینا شرم کا باعث جانا۔ لیکن قصاص کی رقم مقتول کو دینا اسلامی حکم ہے بہرحال۔ ایسے حالات میں بے شمار لوگوں کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ والدین کی تربیت نہیں ہے، غلطی والدین کی ہے اور یہ بھی کہ بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے وہ مہد سے لے کر لحد تک سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے۔ سچ ہے لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ والدین تو پڑھا لکھا دیتے ہیں۔ اپنی زندگی کے خوبصورت دن اولاد کی اچھی تربیت اور اس کی پرورش میں گزار دیتے ہیں لیکن جب یہی بچے باہر کے ماحول اور دوستوں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں تب وہ ہواؤں میں اڑ رہے ہوتے ہیں تعلیم و تربیت دھری رہ جاتی ہے، نئے نئے شوق اور جستجو انوکھے کام کرنے کی طرف رغبت دلاتی ہے۔ ان حالات میں ان نوجوانوں کو والدین کی ہر بات گراں گزرتی ہے وہ اپنے گھر سے جانے اور آنے کا شیڈول ہرگز نہیں بتاتے ہیں چونکہ وہ طاقتور اور بلند قامت ہو چکے ہوتے ہیں، منفی سرگرمیوں اور سوچ کے تحت اپنے والدین کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ چونکہ انھیں ایسے دوستوں کی صحبت میسر ہوتی ہے جو ہوائی فائرنگ توکرتے ہی ہیں ساتھ میں جرائم کرنے میں بے باک ہوتے ہیں، اپنے گھروں یا کرائے کے گھر لے کر تخریبی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اگر گھر کا سربراہ جو کہ کسی کا والد ہوتا ہے اگر وہ مالی طور پر مضبوط اور تعلیم یافتہ ہے تو وہ اپنی اولاد کی مصروفیت پر گہری نگاہ رکھتا ہے اور اس پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ایسی صورت میں بے شمار نوجوان لڑکے، لڑکیاں اپنا وہ گھر جہاں انھوں نے شفیق والدین کے زیر سایہ بچپن بتایا چیزوں اور کائنات کے اسرار و رموز کے بارے میں علم حاصل کیا، اپنے بڑوں کی نصیحت سنی، باہرکا ماحول پل بھر میں سب کچھ بھلا بیٹھا اور ایسی بدنصیب اولادوں نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور دوستوں کی سنگت میں رہ کر زندگی کو خوشگوار جانا، ماں باپ روتے رہے، تڑپتے اور سسکتے رہے انھوں نے اپنی شکل نہیں دکھائی اور آخر برے انجام کو پہنچے۔ اکثر والدین پولیس کا ڈراوا بھی دیتے ہیں، تھانے اور جیل کی ہوا کھلانے کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ بات زبانی کلامی ہوتی ہے، انھیں معلوم ہے ہماری پولیس سے بھی اچھی توقعات ذرا کم ہی ہیں، کہیں کوئی اور مسئلہ نہ پیدا ہو جائے ان کی اولاد بیٹھے بٹھائے مصیبت میں پھنس جائے۔ بے شک والدین، والدین ہی ہوتے ہیں، وہ اپنی اولاد کا کبھی برا نہیں چاہتے ہیں، بہت سے گھرانوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دولت، پیسہ اپنے بچوں پر لٹاتے ہیں، انھیں یہ نہیں سکھاتے بیٹا! اسے ناجائز اور غلط طریقوں پر نہیں استعمال کرنا، بے جا ڈھیل دینے کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی پیار اور اعتبار دینے کا انوکھا طریقہ ہے اور ایسا لاڈ پیار پوش علاقوں میں اولاد کے حوالے سے اکثر سامنے آتا رہتا ہے۔کوئی بھی کام کرنے سے پہلے نتائج پر نظر رکھنا اہم ترین ہوتا ہے ورنہ کردار کی عمارت لمحہ بھر میں ڈھیر ہو جاتی ہے اور اگر مثبت سوچ اور عمل ہے تو ستاروں پر کمند ڈالنے والے بھی ہمارے سامنے ہی ہیں۔ آج پاکستان کے بہت سے طلبا و طالبات سائنس کی ترقی اور ایجادات کے حوالے سے اہم امور پر کام انجام دے رہے ہیں اور کامیابی کا سہرا سجائے پوری دنیا کے سامنے آتے ہیں، انھوں نے اپنا بھی نام روشن کیا ہے اور اپنے پیارے وطن کا بھی۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے اور انھیں وہ ذرایع مہیا کرے جن کی بنا پر وہ ہر رکاوٹ کو اپنی ذہنی سطح کی بنا پر دور کر سکیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکومتی استحکام نہ ہونے کے برابر ہے، بس زور اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان تنخواہیں اور دوسری مراعات حاصل کر سکیں اور پاکستان کے نوجوان بھٹکتے رہیں، تاریک راہوں میں مارے جائیں، ان کی ٹارگٹ کلنگ کی جائے، سیاسی حالات بہت ابتر ہیں بالکل اس شعر کے مطابق: میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں علامہ اقبال کا ایک اور شعر یاد آگیا ہے حالات حاضرہ کے تناظر میں۔ جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ہمارے ملک میں آمرانہ نظام ہے اسی وجہ سے اپنی مرضی سے قانون سازی محض اپنے مفاد کی خاطر کرتے ہیں۔ جمہوریت اور اسلامی آئین سے دور دور کا واسطہ نظر نہیں آتا ہے۔ قانون کا یہی سقم ہے کہ آج بے قصور مرد و زن جیل کاٹ رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل