Wednesday, January 07, 2026
 

گرفتار نہیں اغوا کیا گیا، اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں؛ مادورو کا امریکی عدالت میں بیان

 



وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے نیویارک کی عدالت میں اپنے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کے صدر نے مزید کہا کہ مجھے ملکی سرحدی احترام کی پامالی کرتے ہوئے میرے گھر سے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا۔  نکولس مادورو نے امریکی عدالت کو بتایا کہ مجھے زبردستی اغوا کرکے یہاں لایا گیا ہے۔ میں اب بھی وینزویلا کا آئینی اور قانونی صدر ہوں۔ انھوں نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور سرحدی اصولوں اور احترام کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے نیویارک کی عدالت میں عائد تمام الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ یاد رہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بروکلن سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں سخت سیکیورٹی میں بکتر بند گاڑی کے ذریعے عدالت لا گیا۔ عدالت میں پیشی کے وقت نکولس مادورو کو قیدیوں کا یونیفارم اور ہتھکڑیاں پہنے ہوئے تھے اور سخت سیکیورٹی کے حصار میں تھے۔ انھوں نے کارروائی سمجھنے کے لیے ہسپانوی زبان کے ترجمے کے ہیڈفون استعمال کیے۔ عدالتی سماعت کے دوران وفاقی جج نے جب وینزویلا کے صدر مادورو سے ان کی شناخت پوچھی تو انھوں نے بے ساختہ کہا کہ وہ اب بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔ اس کے بعد جج نے ان پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے جن میں منشیات اسمگلنگ، دہشت گرد تنظیموں سے روابط اور دیگر سنگین جرائم شامل تھے۔ مادورو نے عدالت میں واضح انداز میں کہا کہ وہ تمام الزامات کو سراسر بے بنیاد سمجھتے ہیں۔ میں ایک مہذب اور اچھا انسان ہوں، میں بے گناہ ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجھ پر لگائے گئے کسی بھی الزام میں میرا کوئی کردار نہیں۔ یہ سب جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف عائد الزامات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں اور وہ کسی جرم میں ملوث نہیں رہیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی کے لیے 17 مارچ کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ نکولس مادورو کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران ان کے بیڈ روم سے حراست میں لیا گیا تھا۔ جس کے بعد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بحری جہاز کے ذریعے امریکا بھیجا گیا اور پھر نیویارک کی ایک جیل میں رکھا گیا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل