Thursday, January 08, 2026
 

چین کے ’مصنوعی سورج‘ نے ناممکن کو ممکن کر دِکھایا

 



چین میں سائنس دانوں نے فیوژن انرجی سے متعلق اہم کامیابی حاصل کرلی۔ یہ پیشرفت آئندہ جنریشن کی توانائی کے ذرائع کے فہم میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک کو عبور کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی ٹیم کے مطابق ان کے تجرباتی نیوکلیئر ری ایکٹر (جس کا نام مصنوعی سورج رکھا گیا ہے) نے پلازمہ کی وہ کثافت حاصل کرلی ہے جو پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ نیوکلیئر فیوژن کا عمل نقصان دہ فضلا خارج کیے بغیر تقریباً لا محدود توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بالکل اسی قدرتی عمل کی نقل کرتا ہے جو سورج میں وقوع پذیر ہوتا ہے، اگرچہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اس عمل کا انجام دیا جانا بہت مشکل ہے۔ گزرے برسوں میں سائنس دانوں کو اس حوالے سے متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک کامیابی گزشتہ برس ادارے کا اپنا مصنوعی سورج پہلی بار کامیابی کے ساتھ 1000 سیکنڈ سے زیادہ وقت تک چلانا ہے اور اس ریکارڈ کو بعد ازاں فرانس کی WEST مشین نے توڑا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل