Friday, January 09, 2026
 

امریکا، امیگریشن چھاپے کے دوران اہلکار کی فائرنگ سے خاتون شہری ہلاک

 



امریکا میں غیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف کارروائیاں ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوئیں۔ امریکی شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے چھاپے کے دوران ایک خاتون سرکاری اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی. واقعہ ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں امیگریشن چھاپوں کے خلاف پہلے ہی عوامی غم و غصہ اور احتجاج جاری تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد افراد نے اہلکاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی اسی دوران ایک خاتون ڈرائیور کو گولی مار دی گئی، جو موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے آئی سی ای اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی جس کے ردعمل میں فائرنگ کی گئی۔ تاہم انسانی حقوق کے حلقوں اور مقامی قیادت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کو طاقت کا بے رحمانہ استعمال قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار نے خود کو بچانے کے لیے اقدام کیا جبکہ ان کے مطابق خاتون مبینہ طور پر مزاحمت اور بدنظمی میں ملوث تھی۔ دوسری جانب کانگریس کی رکن الہان عمر نے اس واقعے کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کمیونٹیز کے تحفظ کے بجائے شہریوں کی جان لے رہے ہیں جو کھلا ریاستی تشدد ہے۔ منیاپولس کے مئیر نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای  اہلکار کی لاپرواہی کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہوئی۔ واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل