Loading
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما و سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف سیاست بچوں کے ہاتھوں میں دے کر اسے خراب نہ کریں، ہمارے بڑے جا سکتے ہیں اگر چلے گئے تو پاکستان بھی افغانستان بن جائے گا۔
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ آج وہ 325 ویں پیشی پر عدالت میں پیش ہوئے اور تین سال سے پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جیلوں میں ہیں وہ میرے دل کے قریب ہیں، ہم ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں نے کہا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کریں ہم سرمایہ کاری کریں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت مہربانی کرے سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، بشریٰ بی بی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور دیگر کو رہا کریں، یاسمین راشد کینسر کر مریضہ ہیں ان سے اب کیا چاہتے ہیں، عمران خان کو قائل کرنا مسئلہ نہیں ماحول کا ہونا ضروری ہے، جو مذاکرات کرنے چاہتے ہیں وہ جیلوں میں ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے مہمان اداکاروں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق تیس فیصد لوگ تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے، بیس فیصد پسند کا کھانا نہیں کھا سکتے، لوگوں کی آمدنی 2015 کے لیول پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ دو تین سالوں میں پیٹرول، ڈیزل، انرجی سمیت دیگر اشیاء میں دو سو فیصد اضافہ ہوا، لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے، کسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر بیٹھ گئے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ کسان سے حکومت گندم نہیں خرید رہی اور نہ باہر بیچنے دے رہی ہے، ہماری حکومت روزانہ تماشا چاہتی ہے، سو سو سال سزائیں سنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ گوہر خان پی ٹی آئی کے چیئرمین ہیں تو پھر اپنی کمر میں طاقت بنائیں، سہیل آفریدی آج کراچی جا رہے ہیں، وہ ہمت حوصلے سے آگئے بڑھ رہے ہیں، انہوں نے ابھی تک کوئی گھٹیا بات نہیں کی۔
دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت نے فواد چوہدری کی 9 مئی کے 7 مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں 13 فروری تک توسیع کردی اور آئندہ سماعت پر پراسکیوشن سے متعلقہ مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی، جمعہ کے روز عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر فواد چوہدری اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری لگائی۔ فواد چوہدری کے خلاف درج مقدمات میں جناح ہائوس چوک میں گاڑی جلانے اور شیر پائو پل پر جلائو گھیراؤ کے الزامات شامل ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل