Loading
سوشل میڈیا نے ابتدا میں فاصلے کم کیے، معلومات فراہم کیں اور رابطے آسان بنائے، مگر اب یہ سہولت ایک نفسیاتی لت میں بدل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی زندگی پر چھا گئی ہے۔ ہر آنکھ اسکرین کی روشنی میں جکڑی ہے اور ہر لمحہ ایک نظام کے ہاتھ میں ہے، جو انسان کی توجہ اور مزاج کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔
موبائل فون، ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ نے انسان کو متعدد روزمرہ آلات سے آزاد کردیا ہے، جو ماضی میں ضروری سمجھے جاتے تھے۔ ریڈیو، ٹیلی وژن،کیمرہ،گھڑی، اخبار، لائبریری اورکھیل کود کی جگہ اب ایک اسکرین نے لے لی ہے۔
آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل کاروبار، سوشل نیٹ ورکنگ اور تفریح کی سہولتیں بیک وقت فراہم کرنا، سوشل میڈیا کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہیں، مگر اس سہولت کے ساتھ، انسان کا وقت، توجہ اور ذہنی سکون بھی انھی پلیٹ فارمز کی قید میں آ گیا ہے۔
سوشل میڈیا کے مستقل استعمال کے نفسیاتی اثرات واضح اور خطرناک ہیں۔ تحقیق کے مطابق بچے اور نوعمر جو روزانہ تین سے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں توجہ کی کمی، اضطراب، بے چینی اور خود اعتمادی میں کمی کے مسائل پچیس سے تیس فیصد زیادہ پائے گئے ہیں۔
آنکھوں کی صحت، نیندکا معیار، جسمانی سرگرمی اور سماجی تعلقات سب متاثر ہو رہے ہیں۔ بچے، کھیل کود اور حقیقی تعلقات کے بجائے اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے لگے ہیں، جس سے جسمانی نشوونما اور ذہنی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
امریکی سرجن جنرل، جو امریکا میں صحت عامہ کے سب سے بڑے سرکاری مشیر اور چیف ڈاکٹرکے طور پر کام کرتے ہیں، عوام اور حکومت کو صحت کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر سفارشات جاری کرتے ہیں۔
ان کا عہدہ امریکی وزارت صحت و انسانی خدمات کے تحت ہے اور یہ صدر امریکا کی منظوری سے مقررکیے جاتے ہیں۔ سرجن جنرل کی ذمے داری صرف بیماریوں یا علاج تک محدود نہیں بلکہ یہ عوام کی مجموعی صحت، نفسیاتی توازن، غذائی عادات، سماجی تعلقات اور ثقافتی فلاح و بہبود جیسے موضوعات پر بھی سفارشات فراہم کرتے ہیں۔
دو سال قبل جاری شدہ ان کے مشورے، جس کا عنوان’’سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت‘‘ تھا، نے بچوں اور نوعمروں کی ڈیجیٹل دنیا میں موجودگی کے حوالے سے اہم خطرات کی نشاندہی کی۔
اس ایڈوائزری میں انھوں نے واضح کیا کہ نابالغ بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا غیر محدود استعمال ذہنی صحت کے لیے سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے اور دستیاب سائنسی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے بچوں میں توجہ کی کمی، اضطراب، ڈپریشن، بے چینی اور خود اعتمادی میں کمی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مسلسل’’اسکرول‘‘ اور الگورتھم پر مبنی مواد کے نتیجے میں بچوں کی ذہنی دنیا پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان کی سماجی صلاحیتیں اور حقیقی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا الگورتھم دراصل کمپیوٹر پر مبنی وہ منظم اور خودکار طریقہ کار ہے جس کے ذریعے فیس بک، ایکس، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ صارف کو کون سا مواد، کس وقت اورکس ترتیب میں دکھایا جائے۔
یہ الگورتھم صارف کے رویے کو مسلسل دیکھتا اور سیکھتا ہے۔ آپ کن پوسٹس کو زیادہ دیر دیکھتے ہیں،کس ویڈیوکو مکمل دیکھتے ہیں، کن تحریروں کو پسند کرتے ہیں،کن پر تبصرہ کرتے ہیں،کس مواد کو نظرانداز کرتے ہیں، حتیٰ کہ کس موضوع پر رک کر اسکرول کرتے ہیں، یہ تمام معلومات الگورتھم کے لیے ڈیٹا بن جاتی ہیں۔
اسی ڈیٹا کی بنیاد پر وہ اندازہ لگاتا ہے کہ آئندہ آپ کو کون سا مواد زیادہ متاثرکرے گا اور پھر اسی نوعیت کا مواد بار بار آپ کے سامنے لے آتا ہے، یوں سوشل میڈیا الگورتھم کا بنیادی مقصد معلومات دینا نہیں بلکہ توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
جو مواد زیادہ ردِعمل پیدا کرے، زیادہ جذبات ابھارے یا زیادہ دیر تک صارف کو اسکرین سے جوڑے رکھے، الگورتھم اسے ترجیح دیتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں صارف اکثر ایک ہی طرح کے خیالات، آراء اور رجحانات کے حصار میں آ جاتا ہے، جسے فکری تنگ دائرہ یا معلوماتی بلبلہ کہا جا سکتا ہے۔
تعلیمی اور سماجی سطح پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ انسان کو اپنی دلچسپی کا مواد فوراً مل جاتا ہے، مگر منفی پہلو یہ ہے کہ مختلف نقطہ نظر، تنقیدی سوچ اور متوازن معلومات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا الگورتھم اس طرح آہستہ آہستہ انسانی ترجیحات، رائے سازی اور حتیٰ کہ رویوں پر بھی اثر انداز ہونے لگتا ہے۔
امریکی سرجن جنرل نے زور دیا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسی لیے والدین، اساتذہ، اسکول، پالیسی ساز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مشترکہ طور پر اقدامات کریں تاکہ بچوں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول قائم کیا جا سکے، جس میں تعلیم، تفریح اور سماجی تعلقات میں توازن برقرار رہے۔
اس رپورٹ کا حوالہ معتبر طبی اور نفسیاتی جرائد میں بھی شائع ہوا اور یہ دنیا بھر کے والدین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک مستند دستاویزکی حیثیت رکھتا ہے، جسے نظر انداز کرنا بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی پس منظر میں آسٹریلیا نے حال ہی میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی۔ یہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے بچوں کی آن لائن موجودگی کو عمرکی بنیاد پر محدود کیا۔ بدھ، دس دسمبر سے نافذ ہونیوالے قانون کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور یو ٹیوب سمیت بڑے پلیٹ فارمز تک نابالغ بچوں کی رسائی محدود کردی گئی، جب کہ واٹس ایپ،آن لائن کھیل اور تعلیمی آلات کو استثناء دیا گیا تاکہ تعلیم اور رابطے متاثر نہ ہوں۔
اس قانون کے خلاف ورزی پرکمپنیوں کو تین کروڑ تینتیس لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
انھوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچے چھٹیوں میں موبائل پر وقت ضایع کرنے کی بجائے کھیل کود، ہنر سیکھنے اور مطالعے میں مشغول ہوں۔ قانون کے نفاذ کے فوراً بعد لاکھوں بچوں نے خودکار نظام کے تحت اکاؤنٹس سے لاگ آؤٹ کیا اور بعض نے اپنے ناظرین کو الوداع کہا۔
پاکستان جیسے ممالک میں یہ مسئلہ اور بھی زیادہ سنگین ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر غیر ضروری مصروفیت نے توجہ کی کمی،آنکھوں کے امراض، جسمانی کمزوری اور سماجی روابط میں کمی پیدا کردی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بچے روزانہ اوسطاً تین سے چارگھنٹے اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، جس کے نتیجے میں اضطراب، نیند کی کمی اور چڑچڑے پن میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کھیل کود کا کم ہونا، حقیقی دوستوں اور سماجی سرگرمیوں سے دوری اور ذہنی سکون کی کمی، نئی نسل کے لیے ایک دیرپا خطرہ بن چکی ہے۔
بچوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی صحت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے والدین، اساتذہ اور حکومت کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے موبائل اور اسکرین کے استعمال پر نگرانی کریں، محدود وقت مقررکریں اور متبادل صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔
تعلیمی اداروں میں وقفے، جسمانی مشقیں اور ڈیجیٹل خواندگی کے سبق لازمی ہونے چاہئیں تاکہ بچوں کی توجہ اور سماجی مہارتیں متاثر نہ ہوں۔حکومت آسٹریلیا کے تجربے کا مطالعہ کر کے پاکستانی معاشرتی، ثقافتی اور تعلیمی حالات کے مطابق مناسب قوانین مرتب کرے، تاکہ نئی نسل سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔
کمیونٹی سطح پر کھیل کے میدان، لائبریریاں اور ثقافتی سرگرمیاں فروغ دی جائیں، تاکہ بچے اسکرین کی لت سے باہر نکل کر حقیقی زندگی کے تجربات حاصل کر سکیں۔
والدین، اساتذہ اور معاشرہ مل کر بچوں کو سوشل میڈیا کے فوائد سے مستفید کرتے ہوئے اس کی لت سے بچا سکتے ہیں، تاکہ ایک متوازن، صحت مند اور باشعور معاشرہ وجود میں آئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل