Loading
کوئلہ استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج بھی توانائی کے ایوانوں میں زیر بحث ہے۔ مقامی کوئلے کے ذخائرکا موثر استعمال درحقیقت آیندہ چند صدیوں تک پاکستان کے لیے ’’ روشنی‘‘ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار ہماری بصیرت، درست فیصلہ سازی اور عملی نفاذ پر ہے۔
تھرپارکر میں دنیا کے ساتویں بڑے کوئلے کے ذخائر ہیں، جن کی مجموعی مقدار تقریباً 180 ارب ٹن ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر غیر استعمال شدہ وسائل پاکستان کو صدیوں تک بجلی کی پیداوارکے لیے ایندھن فراہم کرسکتے ہیں۔
پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئلے کا استعمال قومی خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے؟ ایک قابل تقلید مثال انڈونیشیا کی ہے۔ ان کی کوئلے کے استعمال کی کہانی 1980 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی، جب انڈونیشیا نے منظم تحقیقی پروگرام شروع کیے، جن کے نتیجے میں سوماترا اورکالیمانتان میں کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔
یہ پروگرام اس لحاظ سے کامیاب ثابت ہوئے کہ ایسے ذخائر کی نشاندہی ہوئی جو برآمدات کو ترقی دینے کے قابل تھے اور یہ ذخائر لائسنس یافتہ علاقوں میں دریافت ہوئے، جہاں سے 2015 میں 130 ملین ٹن سے زائد کوئلے کی پیداوار حاصل ہوئی۔
وہ کام جو ابتدا میں صرف تحقیق کے طور پر شروع کیا گیا تھا، اب اقتصادی انجن میں تبدیل ہوچکا ہے جو دنیا کے چوتھے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو توانائی فراہم کررہا ہے۔
آج کوئلہ کی کان کنی انڈونیشیا کی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 6.6 فیصد ہے، جو اسے ملک کی سب سے اہم اشیاء میں سے ایک بناتی ہے۔
2023 میں انڈونیشیا میں کوئلے اور لیگنائٹ کی کان کنی سے حاصل ہونے والی مجموعی ملکی پیداوار تقریباً 1.1 کوآڈریلین انڈونیشیا روپیہ تھی، جو اس شعبے کی زبردست اقتصادی شراکت کو ظاہر کرتی ہے۔
روزگار کے حوالے سے اس کے اثرات بھی نہایت انقلابی ہیں۔ ملکی کوئلے کی پیداوار اور سپلائی چین ہزاروں ملازمتیں فراہم کررہی ہے، جو چند مخصوص علاقوں میں مرکوز ہیں اور ایسے اقتصادی مراکز قائم کر رہی ہیں جنہوں نے پوری کمیونیٹیز کو غربت سے نکالا ہے۔
حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کیا جائے۔ ان میں پورٹ قاسم، ساہیوال اور چائنا حب پاور پلانٹس شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 1.32 گیگا واٹ ہے۔
مالی سال 2021-22 میں ملکی ایندھن کا درآمدی بل 20 ارب امریکی ڈالرز سے تجاوز کرگیا، جس کے بعد کیے گئے اس اقدام کا مقصد درآمدی اخراجات میں کمی اور بجلی کی پیداوار کے لیے غیرملکی ایندھن پر انحصارکم کرنا ہے۔
پاکستان میں کوئلے کی درآمدات میں 2015 کے بعد سے تین گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2020 میں بڑھ کر 18.7 ملین ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ملک میں کوئلے پر چلنے والے متعدد بجلی گھروں کا قیام ہے۔
اس کے برعکس اسی سال ملکی کوئلہ اور لیگنائٹ کی پیداوار تقریباً 5 ملین ٹن رہی، جب کہ مجموعی کوئلے کی کھپت 24 ملین ٹن تک جا پہنچی۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن انرجی (USPCAS-E) کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار میں توانائی کے ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ درآمدی کوئلے پر چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے سے قومی خزانے کو اربوں ڈالرز کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
بجلی کے نرخوں میں کمی آئے گی، انرجی سیکیورٹی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور روزگارکی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔ تھر، لاکھڑا، مشرقی سالٹ رینج اور ڈکی کے علاقوں میں کول انفرا اسٹرکچر کی ترقی سے کان کنی، پراسیسنگ اور نقل و حمل کے شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
کوئلے کا ہر بڑا منصوبہ عموماً 2,000 سے 5,000 افراد کو براہِ راست روزگار فراہم کرتا ہے، جب کہ بالواسطہ روزگار کے مواقع تین سے پانچ گنا تک بڑھ جاتے ہیں۔ تھر جیسے تاریخی طور پر پسماندہ علاقے کے لیے کوئلے کی ترقی معاشی محرک ثابت ہوسکتی ہے، جو دیہی آبادیوں کو صنعتی مراکز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ فوائد صرف روزگار تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مقامی وسائل کے ذریعے توانائی کا تحفظ صنعتی مسابقت کو بڑھا دیتی ہے، جس سے ملکی مصنوعات عالمی منڈیوں میں پُرکشش ہوجاتی ہیں۔ مستحکم اور سستی بجلی سے صنعتی شعبے کو فائدہ پہنچتا ہے، جب کہ بجلی کے کم نرخ سے قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو کھپت، معاشی سرگرمی اور مجموعی اقتصادی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔
سستی بجلی، کم ٹیرف، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کا فروغ، اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد،گھریلوکاروباری افراد کی تعداد میں اضافہ اور زرعی شعبے میں میکانائزیشن کے ساتھ ایک خوشحال پاکستان کا تصور شاید ہماری سوچ سے زیادہ قریب ہے۔
اس سے نہ صرف سپلائی چین بہتر ہوگی بلکہ ایندھن کی درآمدات میں کمی کے نتیجے میں بچنے والا قیمتی زرمبادلہ انفرا اسٹرکچر کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں لگایا جاسکتا ہے۔
ان اہداف کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ایک فرسودہ دلیل کو بنایا جاتا ہے کہ پاکستان کا کاربن فٹ پرنٹ عالمی سطح پر نہایت کم ہے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اسے بڑھانا چاہیے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بحث کا رخ ایسی جدید ٹیکنالوجیز کی جانب موڑا جائے جو ممکنہ منفی اثرات کو کم سے کم کرسکے۔ مزید برآں اگر کانوں کو کوئلہ ٹرمینلز سے ملانے کے لیے اضافی ریلوے نیٹ ورکس اور بڑی مقدار میں ترسیل کے لیے موٹرویز اور شاہراہوں کو وسعت دی جائے تو ہم ایک ایسے ملک کا تصور کرسکتے ہیں جہاں انفرا اسٹرکچر بہتر صورت میں موجود ہوتا ہے۔
مقامی کوئلے کا استعمال یقینی طور پر قومی خوشحالی لے کر آئے گی، جب کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ماحولیات پر اثرات کو کم سے کم کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے راہ بنائی جاسکتی ہے۔ہائی ایفیشینسی، لو ایمیشن (HELE) ٹیکنالوجیز کوئلہ کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
جدید سپرکریٹیکل اور الٹرا سپرکریٹیکل پاور پلانٹس کی پیداواری کارکردگی 45 سے 47 فیصد ہے، جب کہ پرانے سب کریٹیکل پلانٹس میں یہ شرح 33 سے 35 فیصد ہوتی ہے۔ جس سے فی یونٹ بجلی کی پیداوار میں 20 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
کاربن کیپچر، یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (CCUS) جیسی جدید ٹیکنالوجی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا 90 فیصد تک جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس کے علاوہ آزمودہ اخراج کنٹرول نظام، جیسے فلو گیس ڈی سلفرائزیشن اور سلیکٹوکیٹالٹک ریڈکشن سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ جیسے مضر اخراجات میں نمایاں کمی لاکر ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
یہ سرمایہ کاری گرڈ انفرا اسٹرکچر، ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنز، واٹر مینجمنٹ بشمول کلوزڈ لوپ کولنگ اور ڈرائی کولنگ ٹیکنالوجیز، راکھ کے استعمال کی سہولت وغیرہ کو بہتر بنانے میں بھی استعمال ہوگی۔
یہ عمل مرحلہ وار بنیادوں پر آگے بڑھایا جاسکتا ہے، تاہم فوری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ تمام نئے پاور پلانٹس میں اعلیٰ کارکردگی اورکم اخراج والی ٹیکنالوجی تنصیب کی جائے اور موجودہ تنصیبات کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ جدید اخراج کنٹرول سسٹمز کوئلے کے تمام اہم کوئلے پلانٹس کے لیے لازمی ہونی چاہیے۔
دوسرے مرحلے میں کاربن کیپچر، یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (CCUS) ٹیکنالوجی کے نفاذ پر توجہ دی جائے گی، جس کا آغاز تھر کے علاقے میں ڈیمونسٹریشن پلانٹس سے کیا جا سکتا ہے۔
اسمارٹ گرڈ اور ڈسٹری بیوشن انفرا اسٹرکچر کی ترقی بجلی کی موثر فراہمی کو یقینی بنائے گی، جب کہ سرکلر اکانومی کے اصولوں کو اپنانے سے وسائل کے زیادہ سے زیادہ اور بہتر استعمال کو فروغ ملے گا۔
حتمی مقصد توانائی کی پیداوار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی میں جدت اور برآمدی صلاحیت بڑھانے پر ہونا چاہیے۔کوئلے کی ترقی کو بلند حوصلہ مگر قابل حصول اہداف کے ہدف پر رکھنا چاہیے، جو مقامی وسائل کو ابھرتے ہوئے معاشی رجحانات سے جوڑے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل