Loading
سپریم کورٹ نے ریپ کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جتنا سنگین الزام ہو اتنی سنجیدہ تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔
وکیل ملزم نے کہا کہ ملزم الزام سے مکمل انکار کررہا ہے، تحقیقات میں لڑکی کا ملزم کے گھر رہنا ثابت رہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ الزام مدعی نے ثابت کرنا ہوتا ہے ملزم نے نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ کوئی اپنی بیٹی پر جھوٹا الزام لگا کر تماشہ کیوں بنائے گا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تمام واقعات تو رپورٹ بھی نہیں ہوتے، کیا میڈیکل رپورٹ بھی ملزم کے خلاف نہیں ؟
سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میڈیکل دو ماہ کی تاخیر سے ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہر مقدمہ ریپ کا نہیں ہوتا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ لوگ بیٹیوں کی عزت کی وجہ سے خاموش ہو جاتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ خاتون نے خود ریپ تسلیم کیا اور کیا ثبوت ہوگا، جسٹس ملک شہزاد نے مکالمہ کیا کہ صرف لڑکی کی گواہی پر تو ملزم کو سزا دینے کا نہیں کہہ سکتے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کبھی کسی کو زنا بالرضا پر بھی سزا ہوئی ہے ؟ کیا رضا مندی کے مجرم کو زبردستی کی دفعات پر سزا دی جاسکتی ہے ؟ جو جرم ہو گا اتنی ہے سزا دیں گے، جتنا جرم اتنی سزا۔
ملزم کے خلاف خاتون کے والد نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں گزشتہ برس ذیادتی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل