Loading
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ فضا کے برعکس ایک حیران کن سفارتی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے براہِ راست نہیں بلکہ روس کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات پہنچا کر یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ پیشگی حملے سے گریز کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر کے آخر میں ایران میں احتجاجی لہر شروع ہونے سے پہلے اسرائیلی حکام نے ماسکو کے ذریعے تہران کو پیغام بھجوایا کہ اگر اسرائیل کو نشانہ نہیں بنایا گیا تو وہ ایران کے خلاف کوئی فوجی اقدام نہیں کرے گا۔
یہ پیغام ایک ایسے وقت میں پہنچایا گیا جب خطے میں جنگ کے خدشات زور پکڑ رہے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس پیغام کے جواب میں ایرانی قیادت نے بھی روسی سفارتی چینل کے ذریعے مثبت ردعمل دیا اور واضح کیا کہ ایران بھی کسی قسم کے پیشگی حملے کی جانب قدم نہیں بڑھائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات اور دھمکیوں کے باوجود پسِ پردہ رابطے اور طاقتور ثالثوں کے ذریعے کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
روس کا اس حساس معاملے میں رابطہ کار کا کردار عالمی طاقتوں کی خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کی عکاسی کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل