Loading
واشنگٹن: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے متعلق جنگ بندی منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کا بنیادی مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بتایا کہ صدر کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جا رہا ہے، جس میں جنگ بندی کے بعد غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانا، تکنیکی حکومت قائم کرنا اور تعمیرِ نو شامل ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بعض حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
Today, on behalf of President Trump, we are announcing the launch of Phase Two of the President’s 20-Point Plan to End the Gaza Conflict, moving from ceasefire to demilitarization, technocratic governance, and reconstruction.
Phase Two establishes a transitional technocratic…
— Special Envoy Steve Witkoff (@SEPeaceMissions) January 14, 2026
اسٹیو وٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں تمام غیر مجاز مسلح عناصر کو اسلحہ چھوڑنا ہوگا، جبکہ جنگ کے بعد کے انتظامات کے لیے 15 رکنی فلسطینی تکنیکی کمیٹی قائم کی جائے گی جو غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی۔ اس کمیٹی کے قیام کا اعلان مصر نے بھی کیا ہے، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور ثالث ہے۔
امریکی ایلچی نے واضح کیا کہ امریکا کو توقع ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی، جن میں آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے تعاون نہ کیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل