Loading
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن پر گرما گرم بحث ہوئی جب کہ اجلاس میں اسکروٹنی اور انتخابات سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین شیخ آفتاب کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں گزشتہ اجلاس کے میٹنگ منٹس کی متفقہ طور پر توثیق کی گئی۔ اجلاس کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اشتراک سے اسکروٹنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیئرمین پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اجلاس کو بتایا کہ اسکروٹنی کمیٹی ہاکی کلبوں کے لیے معیار طے کرے گی اور ان کی مارکنگ کرے گی۔ اجلاس میں ہاکی کلبوں کے کھلاڑیوں کی ڈیٹا میچنگ لازمی قرار دی گئی جب کہ ہر کلب میں صدر اور سیکریٹری کا ہونا ضروری ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہاکی کلبوں کے لیے رجسٹریشن دستاویزات اور گراؤنڈ کی تفصیلات فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔ چیئرمین پی ایس بی کے مطابق کلب اسکروٹنی کمیٹی نے ابتدائی سفارشات مرتب کر لی ہیں اور تمام ہاکی کلبوں کی رجسٹریشن کے لیے ایک آن لائن پورٹل قائم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 1100 ہاکی کلب موجود ہیں جن کی طے شدہ معیار کے تحت اسکروٹنی کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں صرف اسلام آباد کے ہاکی کلبوں کو طلب کیا گیا ہے جب کہ اسکروٹنی مکمل ہوتے ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کروائے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ طارق بگٹی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے منتخب صدر نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات جلد از جلد کروائے جانے چاہییں۔
انہوں نے چیئرمین پی ایس بی کی جانب سے ماضی میں ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلے کو دودھ کی نگرانی پر رکھا جا رہا ہے۔ الیکٹڈ باڈی کے خلاف ایک اور باڈی بنائی گئی ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ ناک کے نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے۔
شہلا رضا نے مزید کہا کہ طارق بگٹی صاحب لاڈلے بنے ہوئے ہیں، ان انتخابات کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی غیر قانونی قرار دیا جب کہ مالی بے ضابطگیاں اور بدانتظامی بھی ہو رہی ہیں۔
اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ بات بار بار دہرائی جا رہی ہے اور اگر کسی بات کو بار بار دہرایا جائے تو وہ لطیفہ لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بولنے کا موقع دیا جائے، میٹنگ صرف ایک شخص کے لیے نہیں ہو رہی ، ہم ایک ہی بات بار بار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ کچھ معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ہیں، وہ انہیں کرنے دیے جائیں۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ افسانہ بنایا گیا کہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن جعلی ہے، اگر وزیراعظم نے اس کی تعیناتی کی ہے تو وہ درست ہے ۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ایک پرائیویٹ کمپنی کی وکالت کی جا رہی ہے۔
شہلا رضا نے خواجہ اظہار الحسن کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لطیفے کو سب لطیفہ ہی لگتا ہے ۔ ہم قانون کے مطابق چلیں گے چاہے جتنا مرضی خرچنا اور کریدنا پڑے۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کہا کہ ہر بندے کو بولنے کا موقع دیا جائے، دو بندے ہی کیوں بولتے رہیں، کیا ہم سب بیکار ہیں۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین بھٹو نے چیئرمین پاکستان اسپورٹس بورڈ سے سوال کیا کہ اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ اس پر چیئرمین پی ایس بی نے جواب دیا کہ پاکستان میں ایک ہی ہاکی فیڈریشن ہے جو پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ساتھ افیلیئٹڈ ہے اور یہی فیڈریشن ایف آئی ایچ کے ساتھ بھی ایفیلیئٹڈ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر کی قانونی حیثیت کے حوالے سے اٹارنی جنرل کی رپورٹ میں بھی صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا تھا جب کہ سیکریٹری کے حوالے سے اس رپورٹ میں کوئی سوال ہی نہیں اٹھایا گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل