Tuesday, January 27, 2026
 

وزن کم کرنے کی ادویات صارفین کی عادات بدل رہی ہیں؟

 



وزن گھٹانے کے لیے استعمال ہونے والی نئی ادویات صرف جسمانی ساخت پر ہی اثر انداز نہیں ہو رہیں بلکہ لوگوں کے روزمرہ اخراجات اور خریداری کے انداز کو بھی بدل رہی ہیں۔  برطانیہ میں اندازوں کے مطابق اس وقت تقریباً پچیس لاکھ افراد یہ انجیکشن استعمال کر رہے ہیں، جس کے بعد خوراک، ریستورانوں، فیشن اور فٹنس جیسی صنعتوں میں واضح تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ یہ ادویات جسم میں ایک قدرتی ہارمون کی نقل کرکے بھوک، بلڈ شوگر اور ہاضمے کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اسی کے ساتھ مارکیٹ بھی ایک نئے طرز کے صارف کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ خوردہ فروش اب چھوٹی مقدار مگر زیادہ غذائیت والی خوراک کی طرف جا رہے ہیں۔ آن لائن سپر مارکیٹ اوکاڈو نے وزن پر قابو پانے والی ادویات استعمال کرنے والوں کے لیے خصوصی ’جی ایل پی ون فرینڈلی‘ مصنوعات متعارف کرائی ہیں، جن میں کم مقدار کے اسٹیک اور سبزیوں کے غذائی سپلیمنٹس شامل ہیں۔ مارکس اینڈ اسپینسر، ویٹروس اور گریگز پہلے ہی اسی نوعیت کی رینج لانچ کر چکے ہیں، جب کہ ڈی کو بھی عالمی کھانوں سے متاثر چھوٹے پیک، یعنی 250 سے 280 گرام کے کھانے، فروخت کر رہا ہے۔ ریسٹورینٹس اور ٹیک اوے کے کاروبار میں بھی فرق پڑ رہا ہے۔ مورگن اسٹینلے کے ایک سروے کے مطابق امریکا میں اوزیمپک استعمال کرنے والے 63 فیصد افراد نے باہر کھانا کھاتے وقت خرچ کم کر دیا، اس کی وجہ مالی کمی نہیں بلکہ یہ تھی کہ وہ پہلے کی طرح بھاری کھانا نہیں کھا پاتے۔ لندن میں کئی معروف ریستورینٹ کے مالک نے بھی بتایا کہ اب زیادہ تر گاہک صرف مشروبات کے لیے آتے ہیں یا مشترکہ طور پر ایک دو اسٹارٹر منگواتے ہیں، جب کہ تین کورس والے کھانے کم ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات یہ حیرت ہوتی ہے کہ بھوک کم ہونے کے باوجود لوگ کیوں آتے ہیں، لیکن اصل مقصد دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اور سماجی تجربہ ہوتا ہے۔ اسی رجحان کے تحت کچھ مہنگے ریسٹورینٹ نے اپنے مینیو میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں، جنہیں ’مونجارو مینیوز‘ کہا جا رہا ہے۔ اس میں آدھی پلیٹیں، چھوٹے حصے، غذائیت سے بھرپور آپشنز اور لگژری اسنیکس جیسے کیناپیز، کیویار اور سیپیاں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ وہ صارفین مطمئن ہوں جو مقدار سے زیادہ معیار کو ترجیح دیتے ہیں۔ کئی افراد نے یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے ٹیک اوے کھانے کم کر دیے ہیں یا مکمل طور پر چھوڑ دیے ہیں۔ کھانے کے ساتھ ساتھ شراب نوشی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ وزن کم کرنے والے انجیکشن استعمال کرنے والے بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں شراب کی خواہش کم محسوس ہوتی ہے، اور یہ بات ریسٹورینٹس اور بارز میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔  ریسٹورینٹس کے لیے یہ تبدیلی خاصی تشویش ناک ہے، کیونکہ فروخت ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ مورگن اسٹینلے میں یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے شعبہ مشاورت کے نائب صدر ٹوبی کلارک نے خبردار کیا ہے کہ جی ایل پی ون ادویات اس صنعت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر صارفین کم کھائیں اور کم پیئیں تو کھانے اور مشروبات دونوں سے ہونے والی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جو ریسٹورینٹس کے لیے دہرا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب فیشن انڈسٹری اس رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔ جیسے جیسے لوگ وزن کم کر رہے ہیں، انہیں نئے کپڑے خریدنے یا سیکنڈ ہینڈ پلیٹ فارمز سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے، جب کہ پرانے کپڑے بیچنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سیویل رو سے وابستہ ایک کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے بڑھتے استعمال کے ملبوسات کی صنعت پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ معروف ٹیلر برانڈ رچرڈ جیمز کے شریک بانی شان ڈکسن کے مطابق ان کے کاریگروں کو بعض گاہکوں کے سوٹ مکمل طور پر دوبارہ تیار کرنے پڑ رہے ہیں کیونکہ وزن تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ خوبصورتی، صحت اور فٹنس کے شعبے بھی اس تبدیلی سے فائدہ اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تعلیمی مطالعات نے واضح کیا ہے کہ ان ادویات کے استعمال کے دوران ورزش اور غذائی نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی تحقیق کے مطابق وزن دوبارہ بڑھنے سے بچنے کے لیے مسلسل معاونت درکار ہوتی ہے، جب کہ یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف کیمبرج کی الگ الگ رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ بعض صارفین میں پٹھوں کے نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ نیشنل جم چین کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کے پھیلاؤ سے فٹنس سینٹرز میں طلب بڑھی ہے، اور ’دی جم گروپ‘ کے سربراہ ول اور نے کہا کہ کمپنی اس رجحان کو اپنے لیے ایک مثبت محرک سمجھتی ہے۔ ادھر ڈاکٹر پہلے ہی ’اوزیمپک فیس‘ جیسے ممکنہ ضمنی اثرات سے خبردار کر چکے ہیں، جس میں چہرے پر عمر کے آثار تیزی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر جب ادویات بغیر مناسب طبی نگرانی کے استعمال کی جائیں۔ جلد کے ماہرین کے مطابق اس کا بغیر سرجری حل فلرز لگوانا ہے، جس پر ہزاروں ڈالر خرچ آ سکتا ہے۔ اس طرح وزن کم کرنے کے انجیکشن نہ صرف صحت بلکہ لوگوں کے اخراجات اور پوری مارکیٹ کے انداز کو بھی نئے رخ پر ڈال رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل