Loading
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک حالیہ وائرل تصویر سوشل میڈیا پر غیر معمولی بحث کا موضوع بن گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس تصویر کا تعلق نہ تو کسی جارحیت انگیز مہم جوئی سے ہے اور نہ یہ کوئی سفارتی بیان سے متعلق ہے۔
اس تصویر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سفید قمیض کے اوپر سیاہ پفر جیکٹ پہنے ایک سیاہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے فون پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین کی توجہ جس چیز نے کھینچی وہ یہ تھی کہ فون کے کیمرہ والے حصے پر ٹیپ یا اسٹیکر چسپاں دکھائی دیتا ہے۔
تصویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ نیتن یاہو کون سا فون استعمال کرتے ہیں اور کیمرہ کیوں ڈھانپا گیا ہے؟
کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ یہ آئی فون ہوسکتا ہے جبکہ بعض نے اسے سام سنگ کا فون قرار دیا۔ کچھ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ کسی چینی فون کا استعمال تو نہیں کر رہے۔
تاہم زیادہ تر افراد اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ اسرائیل جیسے ملک میں، جہاں نگرانی، ہیکنگ اور بیرونی ٹیکنالوجی کے اثرات پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ وزیرِاعظم کے لیے چینی ڈیوائس استعمال کرنا بعید از قیاس ہے۔
اے آئی ‘گروک’ کی رائے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کے اے آئی Grok سے بھی ایک صارف نے سوال کیا کہ نیتن یاہو کون سا فون استعمال کرتے ہیں۔
گروک نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق ممکن ہے وہ آئی فون استعمال کرتے ہوں، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی تصدیق موجود نہیں۔
گروک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسرائیل حساس حکومتی اور سیکیورٹی معاملات میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال پر سخت پابندیاں رکھتا ہے۔
کیمرہ ڈھانپنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کے مطابق موبائل فون کے کیمرے اور مائیکروفون کو ہیک کر کے نگرانی کرنا ممکن ہے یہاں تک کہ صارف کو اس کا علم بھی نہ ہو۔
اسی ممکنہ خدشے کے پیش نظر دنیا بھر میں سیاست دان، انٹیلی جنس افسران اور اعلیٰ سرکاری حکام اکثر اپنے لیپ ٹاپ اور فون کے کیمروں پر ٹیپ لگا دیتے ہیں۔
یہ ایک سادہ مگر علامتی حفاظتی اقدام سمجھا جاتا ہے خاص طور پر ان افراد کے لیے جو حساس معلومات سے وابستہ ہوں۔
Netanyahu using a phone with its camera taped over.
Highly likely done as a security measure to prevent spying or recording in sensitive areas. pic.twitter.com/N8M8Cc2uD1
— Clash Report (@clashreport) January 27, 2026
کیا تصویر اصلی ہے؟
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار یا تبدیل کی گئی ہو سکتی ہے، تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل