Loading
پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں نے میری آڈیو معاملے پر ویسے ہی تماشہ بنایا ہوا ہے، میری اس آ ڈیو میں کچھ بھی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کہا گیا کہ میں نے سہیل آفریدی پر ملبہ ڈال دیا جبکہ ہم نے وضاحت دی اس لیے یہ پروپیگنڈا ناکام ہوا، سہیل آفریدی کو ہم سب سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو وزیر اعلیٰ کے پی کو سپورٹ کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے حوالے سے پارٹی میں کوئی بات نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گروپس میں کئی لوگ ہیں اور وہاں بہت سی باتیں ہوتی ہیں، گروپ میں ڈسکشن ہو رہی تھی، انٹرنل ڈسکشن ہو رہی تھی، کوئی غلط بات ہوتی تو پبلک فورم پر کرتا، لوگوں نے ایسے ہی بات کو بڑھا چڑھا دیا، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی میری آڈیو سے متعلق وضاحت درست ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہم پمز اسپتال کی کسی رپورٹ کو نہیں مانتے، شوکت خاتم میں بانی پی ٹی آئی کا علاج کروایا جائے، بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے، ہمارا ردعمل ہے کہ یہ رپورٹیں چھوڑیں، وی لاگ بنانا چھوڑیں، ان کاموں سے ہم مطمئن نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں نواز شریف بیمار تھے تو بانی نے کہا کہ سیاسی اختلاف ایک طرف رکھیں، بانی نے کہا کہ کسی کی زندگی پر سیاست نہیں کریں گے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ لوگوں کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے، ہم کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا پمز نہیں بلکہ شوکت خانم میں بانی کا علاج کروایا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر بانی کا اپنا معالج بانی کو دیکھ لے گا؟ کیا پہلے بانی سے ملاقاتیں نہیں کروائی گئی تھیں؟ اب ہمیں یہ جیل مینئول اور قانون کی باتیں بتا رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کے بیان پر کہ بیماری کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہم اچکزئی صاحب کی بات کا احترام کرتے ہیں، ہو سکتا ہے محمود اچکزئی کے پاس ایسی انفارمیشن ہو جو ہمارے پاس نہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی صاحب کے پاس کوئی اطلاع ہوگی لیکن جو تحفظات عام کارکن اور فیملی کی ہو سکتی ہے، وہ کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ جب تک فیملی کی ملاقات نہیں ہوتی، ڈاکٹر عاصم کی ملاقات نہیں ہوتی ووٹر کو چین تو نہیں آئے گا، اچکزئی صاحب ہی بانی کو ڈاکٹر عاصم کے پاس لے جائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجہ کی ملاقات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کوئی زیادہ ثمر آور ثابت نہیں ہوئی، کیا ملاقات کے کوئی ثمرات دیکھے ہیں؟ کیا بانی سے فیملی یا رہنماؤں کی ملاقات ہو گئی؟۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہم نے بلوچستان مسئلے پر اجلاس طلب کیا، دہشت گردی کی ہم مذمت کرتے ہیں، دہشت گردوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے اُن سے سختی سے نبٹنا چاہیے، بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کیا ہے؟ ہم بلوچستان صورتحال پر آفیشل ردعمل دیں گے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت بتائے کہ علاقے محفوظ کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا ، ان کی دہشت گردی کیخلاف حکمت عملی کیا ہے ، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی اور دہشت گردوں کو کوئی جگہ نہیں ملنی چاہیے، ریاست پاکستان کی سلامتی سب سے مقدم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل